logo
(Trust Registration No. 393)
AIMA MEDIA
logo

:
# **600 کروڑ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر: انتظامیہ کی کامیابی یا صرف ایک نئی عمارت؟**
**حیدرآباد:**
حیدرآباد شہر میں ٹیکنالوجی اور جدید پولیسنگ کے نام پر **600 کروڑ روپے** کی خطیر لاگت سے تعمیر کیا گیا اسٹیٹ پولیس انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (ICCC) آج عوامی سوالات کے گھیرے میں ہے۔ جب اس پروجیکٹ کا افتتاح ہوا تھا، تو یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ شہر میں جرائم پر قابو پانے اور امن و امان برقرار رکھنے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ لیکن، موجودہ صورتحال کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہی ہے۔
### **زمینی حقائق اور عوامی شکایات:**
شہر کے مختلف علاقوں میں روزانہ چوری، چین چھیننے اور سڑکوں پر ہونے والے دیگر جرائم میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات گردش کر رہے ہیں کہ:
* **نگرانی (Surveillance) کا فائدہ کیا؟** اگر ہر کونے میں سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے نصب ہیں اور ان کا کنٹرول اس عظیم الشان مرکز میں ہے، تو پھر مجرموں کے حوصلے اتنے بلند کیوں ہیں؟
* **تدارک بمقابلہ سراغ رسانی (Prevention vs. Detection):** اکثر دیکھا گیا ہے کہ جرم ہونے کے بعد صرف فوٹیج چیک کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام جرم کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنے (Pre-emptive Policing) میں ناکام رہا ہے؟
* **بجٹ کا صحیح استعمال:** 600 کروڑ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اگر اس رقم کا ایک حصہ زمینی سطح پر گشت (Patrolling) بڑھانے، پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافے اور مقامی چوکیوں کو بہتر بنانے میں لگایا جاتا، تو شاید نتائج بہتر ہوتے۔
### **حاصلِ کلام:**
صرف بلند و بالا عمارتوں اور بڑی اسکرینوں سے شہر محفوظ نہیں ہوتا۔ جب تک جدید ٹیکنالوجی کا تال میل زمینی سطح کی پولیسنگ اور تیز رفتار ریسپانس ٹیم کے ساتھ نہیں ہوگا، تب تک مجرموں میں قانون کا خوف پیدا کرنا مشکل ہے۔ پولیس انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس 600 کروڑ کے بنیادی ڈھانچے کا اصل فائدہ عوام تک پہنچائیں، نہ کہ اسے صرف ایک 'نمائشی شے' (Showpiece) بنائے رکھیں۔
**رپورٹ: سید مکرم الدین** *سوشل ایکٹیوسٹ

0
0 views    0 comment
0 Shares