logo
(Trust Registration No. 393)
AIMA MEDIA
logo

*Section 163 BNSS Implemented at SSC Examination Centres – District SP Smt. Sneha Mehra, IPS*

District Superintendent of Police Smt. Sneha Mehra, IPS, stated that stringent security arrangements have been made by the Police Department to ensure the peaceful conduct of the *SSC (10th Class) Public Examinations* scheduled to be held in the district from *March 14 to April 16. She informed that **Section 163 of BNSS (earlier Section 144 CrPC)* will be in force in the surrounding areas of all *69 examination centres* in the district from *8:30 AM to 1:30 PM* on the days of the examinations.

As per the orders, gathering of *more than five persons within a 200-metre radius* around the examination centres is prohibited. She also clarified that *meetings, assemblies, rallies, dharnas, or processions using microphones and DJ systems* will not be permitted near the examination centres. In order to maintain a peaceful atmosphere during the examinations, instructions have been issued to the concerned owners to *close internet centres, xerox shops, and stationery shops located near the examination centres* during the examination hours.

The SP further stated that *special police bandobast* will be deployed at each examination centre with police officers and staff to ensure the smooth conduct of the examinations, and surveillance will be maintained on suspicious persons near the centres. She also made it clear that *mobile phones, smart watches, Bluetooth devices, and other prohibited items* will not be allowed inside the examination centres. Strict legal action will be taken against anyone violating these rules.

Wishing all the students appearing for the examinations the very best, *District SP Smt. Sneha Mehra, IPS, expressed hope that the students would write their exams **calmly and with confidence and achieve success.*

0
1 views    0 comment
0 Shares


दुद्धी/सोनभद्र (रिपोर्ट: नितेश कुमार)
विंढमगंज थाना क्षेत्र अंतर्गत ग्राम सभा पोलवा के हिरा चक में दिनांक 19 मार्च 2026, दिन गुरुवार को बजरंग दल अखाड़ा परिवार की एक आवश्यक बैठक आयोजित की गई। बैठक में संगठन को और अधिक सुदृढ़ एवं सक्रिय बनाने के उद्देश्य से पूर्व की समिति को निरस्त करने तथा नई समिति के गठन पर विस्तृत विचार-विमर्श किया गया।
बैठक के दौरान उपस्थित सदस्यों ने संगठन की मजबूती, युवाओं की भागीदारी तथा क्षेत्र में सामाजिक एवं सांस्कृतिक गतिविधियों को बढ़ावा देने पर अपने-अपने विचार रखे। साथ ही सर्वसम्मति से नई समिति के गठन की प्रक्रिया को आगे बढ़ाने पर सहमति बनी।
इस अवसर पर अध्यक्ष राजदेव पुरी, उपाध्यक्ष धीरेंद्र सिंह, उपाध्यक्ष विजय कुमार, कोषाध्यक्ष आशुतोष शर्मा, रामेश्वर कुमार, महामंत्री महेंद्र शर्मा, सचिव अमित कुमार सहित क्षेत्र के अनेक गणमान्य लोग एवं ग्रामीण उपस्थित रहे।
बैठक का समापन संगठन की एकजुटता एवं क्षेत्र के विकास के संकल्प के साथ किया गया।

0
301 views    0 comment
0 Shares


حیدرآباد کی عوامی آواز: عبدالمجید عطار اور "تحریکِ معاشی انصاف" کا مشن
حیدرآباد: شہرِ فرخندہ بنیاد میں جہاں سیاسی اور سماجی سرگرمیاں ہمیشہ عروج پر رہتی ہیں، وہیں ایک ایسی شخصیت ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے عوام کی رگوں میں نئے عزم اور حوصلے کا خون دوڑا دیا ہے۔ وہ نام ہے جناب عبدالمجید عطار صاحب کا۔
تحریکِ معاشی انصاف: ایک نیا انقلاب
عبدالمجید عطار صاحب صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایک تحریک کا عنوان بن چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں چلنے والی "تحریکِ معاشی انصاف" (Movement for Economic Justice) آج حیدرآباد کے ہر گھر اور ہر دل کی دستک بن رہی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد معاشرے کے کمزور طبقات کو معاشی طور پر مستحکم کرنا اور انہیں ان کے حقوق دلانا ہے۔
مجید عطار صاحب کا ماننا ہے کہ جب تک ایک عام آدمی معاشی طور پر آزاد نہیں ہوگا، تب تک حقیقی انقلاب ممکن نہیں۔ ان کی یہ جدوجہد آج کے دور میں ایک مثال ہے۔
AIMIM (INQUILAB) کے سرگرم قائد
سیاسی میدان میں عبدالمجید عطار صاحب کا کردار انتہائی نمایاں ہے۔ AIMIM (INQUILAB) کے ایک نہایت فعال اور سرگرم قائد (Active Leader) کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ مظلوموں اور ضرورت مندوں کی آواز بلند کی ہے۔ ان کی سیاست کا محور کرسی یا اقتدار نہیں، بلکہ "خدمتِ خلق" ہے۔
ان کی بے باک قیادت اور مسائل کو حل کرنے کا منفرد انداز ہی ہے جس نے انہیں لوگوں میں "مقبولِ عوام" بنا دیا ہے۔
عوامی مقبولیت اور شخصیت
عبدالمجید عطار کی سب سے بڑی طاقت ان کا سادگی پسند مزاج اور لوگوں سے گہرا تعلق ہے۔ چاہے وہ غریب مزدور ہو یا تاجر طبقہ، ہر کوئی انہیں اپنا ہمدرد اور رہنما تسلیم کرتا ہے۔ ان کی باتوں میں اخلاص اور کام میں شفافیت نے انہیں ایک ایسی شخصیت بنا دیا ہے جس پر لوگ آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں۔
ایک روشن مستقبل کی امید
حیدرآباد کی سرزمین پر عبدالمجید عطار جیسے مخلص قائد کا ہونا کسی نعمت سے کم نہیں۔ ان کی "تحریکِ معاشی انصاف" آنے والے وقت میں نہ صرف حیدرآباد بلکہ پورے ملک کے لیے ایک روشن راستہ دکھائے گی۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرمائے اور انہیں مزید قوت و ہمت عطا فرمائے تاکہ وہ انسانیت کی خدمت کا یہ سفر اسی طرح جاری رکھ سکیں۔

0
282 views    0 comment
0 Shares


Hyderabad ki Awami Awaz: Abdul Majeed Attar aur "Tehrik-e-Maashi Insaf" ka Mission
Hyderabad: Shehar-e-farkhunda buniyad mein jahan siyasi aur samaji sargarmiyan hamesha urooj par rehti hain, wahin ek aisi shakhsiyat ubhar kar samne ayi hai jisne awam ki ragon mein naye azm aur hausle ka khoon daura diya hai. Woh naam hai Janab Abdul Majeed Attar sahab ka.
Tehrik-e-Maashi Insaf: Ek Naya Inqilab
Abdul Majeed Attar sahab sirf ek naam nahi, balki ek tehrik ka unwan ban chuke hain. Unki qayadat mein chalne wali "Tehrik-e-Maashi Insaf" (Movement for Economic Justice) aaj Hyderabad ke har ghar aur har dil ki dastak ban rahi hai. Is tehrik ka buniyadi maqsad muashre ke kamzor tabqat ko maashi taur par mustahkam karna aur unhein unke huqooq dilana hai.
Majeed Attar sahab ka manna hai ke jab tak ek aam aadmi maashi taur par azad nahi hoga, tab tak haqiqi inqilab mumkin nahi. Unki yeh jiddo-jihad aaj ke daur mein ek misal hai.
AIMIM (INQUILAB) ke Sar-garam Qaid
Siyasi maidana mein Abdul Majeed Attar sahab ka kirdar intehai numaya hai. AIMIM (INQUILAB) ke ek nihayat fa’al aur sargarman qaid (Active Leader) ki haisiyat se unhon ne hamesha mazloomon aur zaroorat-mandon ki awaz buland ki hai. Unki siyast ka mehwar kursi ya iqtedar nahi, balki "Khidmat-e-Khalq" hai.
Unki be-baak qayadat aur masail ko hal karne ka munfarid andaz hi hai jis ne unhein logon mein "Maqbool-e-Awam" bana diya hai.
Awami Maqbooliyat aur Shakhsiyat
Abdul Majeed Attar ki sab se badi taqat unka sadgi pasand mizaj aur logon se gehra talluq hai. Chahe woh gareeb mazdoor ho ya tajir tabqa, har koi unhein apna hamdard aur rehnuma tasleem karta hai. Unki baaton mein ikhlas aur kaam mein shaffafiyat ne unhein ek aisi shakhsiyat bana diya hai jis par log aankhen band kar ke bharosa karte hain.
Ek Roshan Mustaqbil ki Umeed
Hyderabad ki sar-zameen par Abdul Majeed Attar jaise mukhlish qaid ka hona kisi nemat se kam nahi. Unki "Tehrik-e-Maashi Insaf" aane wale waqt mein na sirf Hyderabad balki pure mulk ke liye ek roshan raasta dikhayegi.
Dua hai ke Allah Ta'ala unki koshishon ko qubool farmaye aur unhein mazeed quwwat-o-himmat ata farmaye taaki woh insaniyat ki khidmat ka yeh safar isi tarah jari rakh saken.

6
644 views    0 comment
0 Shares

0
0 views    0 comment
0 Shares

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان: ایک دوراندیش اور وژنری لیڈر:
دنیا کی موجودہ تیز رفتار ترقی اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں صرف وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو بصیرت اور دور اندیش قیادت کی رہنمائی میں ہوتی ہیں. سعودی عرب کی حالیہ تاریخ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اسی قیادت کی ایک روشن مثال ہیں.
انہوں نے وژن 2030 کے ذریعے سعودی عرب کو تیل پر انحصار سے نکال کر ایک جدید، متنوع اور پائیدار معیشت کی طرف لے جانے کا عزم کیا ہے. اور اپنی وژنری سوچ اور عملی اقدامات کے ذریعے سعودی عرب کو عالمی سطح پر ایک نئے مقام تک پہنچایا ہے.
وژن 2030 کے 93% کلیدی پرفارمنس انڈیکیٹرز (KPIs) یا تو پورے ہو چکے ہیں یا صحیح سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں.
غیر تیل معیشت اب کل GDP کا تقریباً 50% سے زیادہ حصہ بن چکی ہے (2025-2026 کے اعداد و شمار).
سیاحت، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور AI جیسے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری اور ترقی. 85% سے زیادہ اقدامات مکمل یا ٹریک پر ہیں
شہزادہ محمد بن سلمان صرف ایک لیڈر نہیں بلکہ ایک ایسے وژنری رہنما ہیں جو سعودی عرب کو مستقبل کی جدید ترین ریاست بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں. ان کی قیادت نے سعودی نوجوانوں کو جدید تعلیم، روزگار، اختراع اور قیادت کے مواقع فراہم کرنے پر بھرپور توجہ دی ہے.
سعودی عرب آج عالمی سطح پر ایک بااثر، متحرک اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک کے طور پر ابھر رہا ہے.

1
47 views    0 comment
0 Shares

0
0 views    0 comment
0 Shares

قدرتی مہندی کا انتخاب
ہم کتنے سکون سے عید کی تیاریوں میں مگن ہیں....

ہاتھوں پر مہندی کے خوبصورت ڈیزائن سج رہے ہیں۔
بازاروں میں رونق ہے، شاپنگ کی دھوم ہے۔
مگر ذرا ٹھہریے!
کیا ہم نے سوچا کہ وہ ڈیزائن جو ہم اپنے ہاتھوں پر سجا رہے ہیں، وہ کہیں زہریلے تو نہیں؟
یاد رکھیں:
کیمیکل والی مہندی (Emergency Mehndi) سے دور رہیں۔
وہ ڈیزائن جو چند منٹوں میں رنگ لاتے ہیں، وہ دراصل آپ کی جلد کو تیزاب سے جلا رہے ہوتے ہیں۔
خوبصورت ڈیزائن کے پیچھے چھپے یہ کیمیکلز شدید الرجی، زخم اور انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔
قدرتی مہندی کا انتخاب، آپ کو عمر بھر کی تکلیف سے بچا سکتا ہے۔ مہندی کا رنگ اتر جائے گا، لیکن کیمیکل کے زخم شاید کبھی نہ بھریں۔
اپنے پیاروں کا خیال رکھیں اور انہیں بھی اس خطرے سے آگاہ کریں۔ خوشیاں بانٹیں، لیکن حفاظت کے ساتھ!

❓ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو جائے تو کیا کریں؟
اگر مہندی لگاتے ہی آپ کو غیر معمولی جلن محسوس ہو، تو فوراً یہ قدم اٹھائیں:
1️⃣ فوری دھو لیں: جیسے ہی جلن شروع ہو، انتظار نہ کریں! صابن اور ٹھنڈے پانی سے مہندی صاف کر دیں۔
2️⃣ برف کا استعمال: متاثرہ جگہ پر برف لگائیں یا ٹھنڈے پانی میں ہاتھ بھگو کر رکھیں تاکہ تپش کم ہو۔
3️⃣ ایلوویرا جیل (Aloe Vera): خالص ایلوویرا جیل لگائیں، یہ جلد کو سکون دیتا ہے اور سوزش کم کرتا ہے۔
4️⃣ ناریل کا تیل: کیمیکل کے اثر کو کم کرنے کے لیے ناریل کا تیل (Coconut Oil) بہترین مرہم ہے۔
5️⃣ ڈاکٹر سے رجوع: اگر چھالے بن جائیں یا درد برداشت سے باہر ہو، تو گھریلو ٹوٹکوں کے بجائے فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں۔

💬 اب آپ بتائیں...
کیا آپ کا یا آپ کی کسی جاننے والی کا ہاتھ کبھی کیمیکل مہندی سے جلا ہے؟
پھر آپ نے اس وقت کیا کیا تھا؟ اپنا تجربہ نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں.
Syed Mukarram uddin
Social activist
Hyderabad
9381312926

0
0 views    0 comment
0 Shares

13
2280 views    0 comment
0 Shares


गेहूं-चना की फसल पर पानी का कहर, कटाई-गहाई पूरी तरह प्रभावित

सिंग्रामपुर/// क्षेत्र में गुरुवार शाम अचानक बदले मौसम ने किसानों की मेहनत पर पानी फेर दिया। करीब आधे घंटे तक चली तेज गरज-चमक, आंधी-तूफान और झमाझम बारिश ने खेतों में खड़ी पककर तैयार गेहूं और चना की फसल को भारी नुकसान पहुंचाया है। बेमौसम बारिश से पहले ही चिंतित किसानों के लिए यह बारिश किसी आपदा से कम नहीं रही।

बारिश के साथ चली तेज हवाओं के कारण कई खेतों में गेहूं की फसल जमीन पर गिर गई, जिससे कटाई में अब अतिरिक्त समय और लागत लगेगी। वहीं जिन किसानों ने पहले ही फसल काटकर खेतों में रखी थी, उनकी उपज पूरी तरह भीग गई। कई जगह किसान तिरपाल और प्लास्टिक शीट से फसल को बचाने की कोशिश करते नजर आए, लेकिन तेज हवा और लगातार बारिश के कारण यह प्रयास भी नाकाफी साबित हुआ।

ग्रामीण अंचलों के किसानों का कहना है कि इस समय गेहूं और चना की कटाई और गहाई अपने चरम पर थी, लेकिन बारिश के कारण पूरा काम ठप हो गया है। खेतों में पानी भर जाने से हार्वेस्टर और अन्य कटाई मशीनें नहीं चल पा रहीं। वहीं गीली फसल को सुरक्षित भंडारित करना भी बड़ी चुनौती बन गया है, जिससे नुकसान और बढ़ने की आशंका है।

किसान अवधेश, दीपक, महेश और शंभू ने बताया, “हमने फसल की कटाई शुरू ही की थी कि अचानक मौसम बदल गया और तेज बारिश शुरू हो गई। अब पूरी फसल भीग चुकी है, जिससे काफी नुकसान होने की संभावना है।”

कृषि विशेषज्ञों के अनुसार, इस समय की बेमौसम बारिश गेहूं की गुणवत्ता पर सीधा असर डालती है। बालियों में नमी बढ़ने से दाने सिकुड़ सकते हैं और उनमें काला पड़ने या अंकुरण (sprouting) की समस्या भी आ सकती है। वहीं चना की फसल में भी दानों के खराब होने और सड़ने का खतरा बढ़ जाता है। इससे बाजार में फसल का दाम कम मिलने की संभावना रहती है।

स्थिति को और गंभीर बनाते हुए क्षेत्र में विद्युत आपूर्ति भी पूरी तरह बाधित हो गई, जिससे किसानों और ग्रामीणों को अतिरिक्त परेशानी का सामना करना पड़ा। बिजली न होने से सिंचाई, भंडारण और अन्य कृषि कार्य भी प्रभावित हुए हैं।

विशेषज्ञों का कहना है कि यदि अगले दो दिनों में मौसम साफ नहीं हुआ और धूप नहीं निकली, तो नुकसान और अधिक बढ़ सकता है। ऐसे में किसानों को फसल को जल्द से जल्द सुखाने और सुरक्षित रखने के उपाय करने की सलाह दी जा रही है।

किसानों ने प्रशासन से मांग की है कि प्रभावित क्षेत्रों का तत्काल सर्वे कराया जाए और फसल नुकसान का उचित मुआवजा दिया जाए, ताकि उन्हें आर्थिक राहत मिल सके। फिलहाल, किसान आसमान की ओर उम्मीद भरी नजरों से देख रहे हैं कि मौसम जल्द साफ हो और वे अपनी फसल को बचा सकें।

0
792 views    0 comment
0 Shares

अररिया :(बिहार) मीडिया सीमांचल भारत न्यूज़ चैत्र नवरात्रि और हिंदू नव वर्ष (विक्रम संवत 2083) का पावन पर्व 19 मार्च 2026 से शुरू होकर 27 मार्च तक मनाया जाएगा। यह चैत्र मास के शुक्ल पक्ष की प्रतिपदा तिथि को शुरू होता है, जो नई शुरुआत, शक्ति उपासना ( नौ देवियों की पूजा) और प्रकृति मैं बदलाव का प्रतीक है। इस दिन कलश स्थापना के साथ नौ दोनों का उत्सव शुरू होगा। मुख्य विवरण: या देवी सर्वभूतेषु शक्तिरूपेण संस्थिता। नमस्तस्यै नमस्तस्यै नमस्तस्यै नमो नमः। समस्त देशवासियों को चैत्र नवरात्रि एवं हिंदू नव वर्ष विक्रम संवत 2083 की हार्दिक शुभकामनाएं! मां जगदंबा आपके जीवन में सुख, और समृद्धि लाए।

14
1042 views    0 comment
0 Shares

England क्रिकेट टीम में इन दिनों काफी उथल-पुथल देखने को मिल रही है। Ashes सीरीज़ में Australia के हाथों मिली 4-1 की करारी हार के बाद अब England and Wales Cricket Board (ECB) कड़े फैसले लेने के मूड में नजर आ रहा है। इसी कड़ी में बोर्ड ने आधिकारिक तौर पर पुरुषों की राष्ट्रीय टीम के लिए एक नए National Selector की तलाश शुरू कर दी है। यह कदम टीम के भविष्य की रणनीति और चयन प्रक्रिया को लेकर उठ रहे सवालों के बीच उठाया गया है।

यह बड़ा बदलाव ऐसे समय में हो रहा है जब ECB के मुख्य कार्यकारी Richard Gould और मैनेजिंग डायरेक्टर Rob Key मीडिया के सामने Ashes की हार और टीम के प्रदर्शन की समीक्षा पेश करने वाले हैं। पिछले चयनकर्ता Luke Wright ने व्यक्तिगत कारणों और परिवार को समय देने की बात कहकर अपना पद छोड़ दिया था। अब बोर्ड की कोशिश है कि June में New Zealand के खिलाफ होने वाली घरेलू टेस्ट सीरीज़ से पहले एक योग्य उत्तराधिकारी का चयन कर लिया जाए।

इस बार ECB ने पद के नाम में मामूली लेकिन महत्वपूर्ण बदलाव किया है। इसे अब 'National Selector' कहा जा रहा है, जो पहले की तुलना में अधिक जिम्मेदारी और जवाबदेही की ओर इशारा करता है। नए चयनकर्ता का मुख्य कार्य न केवल टीम का चुनाव करना होगा, बल्कि राष्ट्रीय टीम और First Class Counties के बीच बेहतर तालमेल बिठाना भी होगा। आवेदन की प्रक्रिया शुरू हो चुकी है और इसके लिए 17 April तक का समय दिया गया है।

हाल के दिनों में England की चयन नीति पर काउंटी सर्किट से तीखी प्रतिक्रियाएं आई हैं। Surrey के हेड कोच Gareth Batty ने हाल ही में कहा था कि काउंटी क्रिकेट से राष्ट्रीय टीम तक पहुंचने का रास्ता अब काफी धुंधला हो गया है। टीम मैनेजमेंट पर यह भी आरोप लग रहे हैं कि वे पारंपरिक प्रदर्शन के बजाय कुछ अलग तरह के चयन को प्राथमिकता दे रहे हैं, जिससे घरेलू स्तर के खिलाड़ियों में असुरक्षा का भाव है।

मैदान पर खराब प्रदर्शन के साथ-साथ मैदान के बाहर खिलाड़ियों के अनुशासन को लेकर भी कई विवाद सामने आए हैं। Harry Brook का नाइट क्लब में हुआ वाकया और Liam Livingstone द्वारा खुलेआम कोचों के रवैये की आलोचना करना इस बात का संकेत है कि टीम के भीतर सब कुछ ठीक नहीं है। इन विवादों ने बोर्ड पर दबाव बढ़ा दिया है कि वह एक ऐसा नेतृत्व तैयार करे जो अनुशासन और प्रदर्शन दोनों को प्राथमिकता दे।

हालांकि टीम के मुख्य कोच Brendon McCullum, जिन्हें 'Bazball' शैली के लिए जाना जाता है, अपने पद पर बने रहेंगे क्योंकि उनका अनुबंध अगले साल के अंत तक है। लेकिन नए चयनकर्ता की नियुक्ति यह तय करेगी कि England की टेस्ट क्रिकेट रणनीति में क्या कोई बुनियादी बदलाव होगा या नहीं। अब सबकी नजरें इस बात पर टिकी हैं कि Richard Gould और Rob Key आने वाले समय में टीम की मजबूती के लिए क्या नया रोडमैप तैयार करते हैं।

पूरी खबर पढ़ें: https://thegurugyan.com/todaymatchprediction/england-cricket-mein-bawaal-naya-selector-dhoondh-rahe-ya-bazzball-ka-future/

9
439 views    0 comment
0 Shares

विजय कुमार, वरिष्ठ पत्रकार
विशेष रिपोर्ट:

भारत में शिक्षा को “राष्ट्र निर्माण की नींव” कहा जाता है।
लेकिन अगर उसी नींव को खोखला करने वाले लोग सिस्टम के भीतर बैठ जाएं,
तो सवाल केवल भ्रष्टाचार का नहीं, बल्कि पूरे राष्ट्र के भविष्य का हो जाता है।

गया का जिला शिक्षा पदाधिकारी (DEO) कार्यालय आज इसी सड़े हुए तंत्र का जीवंत उदाहरण बन चुका है—जहां शिक्षा नहीं, बल्कि फाइलों की दलाली, रिश्वतखोरी और अमानवीय संवेदनहीनता का कारोबार चलता रहा।
फाइलों का कब्रिस्तान या भ्रष्टाचार का अड्डा?

13 जनवरी 2026 को जब जिलाधिकारी शशांक शुभंकर ने डीईओ कार्यालय परिसर में लगाए गए जनता दरबार में लगभग दो सौ शिक्षको की खुद शिकायतें सुनीं,
तो जो सामने आया वह किसी एक दिन की गड़बड़ी नहीं थी—
यह वर्षों से पनपते एक “सिस्टमेटिक करप्शन” का खुला दस्तावेज था।
फाइलें महीनों नहीं, सालों तक दबाकर रखी गईं।
लोग न्याय के लिए भटकते रहे, लेकिन दफ्तर के अंदर “फाइल चलाने” की असली शर्त थी—रिश्वत।
सबसे बड़ा कलंक: शिक्षक ही शिकार
गया की एक महिला शिक्षक—शांति कुमारी—का मामला इस सड़े हुए तंत्र की सबसे भयावह तस्वीर पेश करता है।
19 वर्षों से वेतन नहीं
बार-बार अपमान, उत्पीड़न
वेतन बिल बनाने के लिए रिश्वत की मांग
यह केवल एक व्यक्ति की पीड़ा नहीं, बल्कि पूरे सिस्टम की बेशर्मी है।

यह सीधा-सीधा उल्लंघन है:
अनुच्छेद 14 (समानता का अधिकार)
अनुच्छेद 16 (सरकारी नौकरी में समान अवसर)
अनुच्छेद 21 (जीवन और गरिमा का अधिकार)
प्रश्न यह है—क्या एक शिक्षक का जीवन, उसकी गरिमा, उसका अधिकार—इस सिस्टम के लिए कोई मायने नहीं रखता?

डीएम की कार्रवाई: एक उम्मीद या अस्थायी इलाज?
जिलाधिकारी ने वेतन रोकने, स्थानांतरण करने और जांच बैठाने जैसे कदम उठाए—यह सराहनीय है।

लेकिन क्या यह पर्याप्त है?

क्या सिर्फ कुछ लिपिकों पर कार्रवाई से यह सड़ा हुआ ढांचा सुधर जाएगा?
या फिर यह केवल “ऊपरी मरहम” है, जबकि बीमारी अंदर तक फैली हुई है?

सवाल जो जवाब मांगते हैं
19 साल तक वेतन क्यों नहीं मिला?
जिम्मेदार अधिकारियों पर अब तक आपराधिक मामला क्यों नहीं?
शिक्षा विभाग के उच्च अधिकारियों की भूमिका क्या रही?
क्या यह अकेला मामला है या एक बड़े घोटाले की झलक?
यह सिर्फ भ्रष्टाचार नहीं—यह राष्ट्र के खिलाफ अपराध है।

जब एक शिक्षक को ही न्याय नहीं मिलता, तो वह बच्चों को क्या सिखाएगा?
जब शिक्षा तंत्र ही भ्रष्ट हो जाए, तो अगली पीढ़ी का चरित्र कैसे बनेगा?

यह केवल आर्थिक घोटाला नहीं
यह नैतिक पतन है।
यह संवैधानिक मूल्यों की हत्या है।

निष्कर्ष: अब चुप रहना अपराध है
यह समय है जब:
दोषियों पर FIR और कड़ी कानूनी कार्रवाई हो,
पूरे शिक्षा विभाग की स्वतंत्र जांच (CBI/न्यायिक जांच) हो
पीड़ित शिक्षक को तत्काल न्याय और मुआवजा मिले
अगर अब भी कार्रवाई नहीं हुई, तो यह केवल एक शिक्षक का नहीं, बल्कि पूरे समाज का हार होगा।

“जब शिक्षक रो रहा हो, तो समझिए—देश का भविष्य खतरे में है।”

7
244 views    0 comment
0 Shares

England क्रिकेट टीम में इन दिनों काफी उथल-पुथल देखने को मिल रही है। Ashes सीरीज़ में Australia के हाथों मिली 4-1 की करारी हार के बाद अब England and Wales Cricket Board (ECB) कड़े फैसले लेने के मूड में नजर आ रहा है। इसी कड़ी में बोर्ड ने आधिकारिक तौर पर पुरुषों की राष्ट्रीय टीम के लिए एक नए National Selector की तलाश शुरू कर दी है। यह कदम टीम के भविष्य की रणनीति और चयन प्रक्रिया को लेकर उठ रहे सवालों के बीच उठाया गया है।

यह बड़ा बदलाव ऐसे समय में हो रहा है जब ECB के मुख्य कार्यकारी Richard Gould और मैनेजिंग डायरेक्टर Rob Key मीडिया के सामने Ashes की हार और टीम के प्रदर्शन की समीक्षा पेश करने वाले हैं। पिछले चयनकर्ता Luke Wright ने व्यक्तिगत कारणों और परिवार को समय देने की बात कहकर अपना पद छोड़ दिया था। अब बोर्ड की कोशिश है कि June में New Zealand के खिलाफ होने वाली घरेलू टेस्ट सीरीज़ से पहले एक योग्य उत्तराधिकारी का चयन कर लिया जाए।

इस बार ECB ने पद के नाम में मामूली लेकिन महत्वपूर्ण बदलाव किया है। इसे अब 'National Selector' कहा जा रहा है, जो पहले की तुलना में अधिक जिम्मेदारी और जवाबदेही की ओर इशारा करता है। नए चयनकर्ता का मुख्य कार्य न केवल टीम का चुनाव करना होगा, बल्कि राष्ट्रीय टीम और First Class Counties के बीच बेहतर तालमेल बिठाना भी होगा। आवेदन की प्रक्रिया शुरू हो चुकी है और इसके लिए 17 April तक का समय दिया गया है।

हाल के दिनों में England की चयन नीति पर काउंटी सर्किट से तीखी प्रतिक्रियाएं आई हैं। Surrey के हेड कोच Gareth Batty ने हाल ही में कहा था कि काउंटी क्रिकेट से राष्ट्रीय टीम तक पहुंचने का रास्ता अब काफी धुंधला हो गया है। टीम मैनेजमेंट पर यह भी आरोप लग रहे हैं कि वे पारंपरिक प्रदर्शन के बजाय कुछ अलग तरह के चयन को प्राथमिकता दे रहे हैं, जिससे घरेलू स्तर के खिलाड़ियों में असुरक्षा का भाव है।

मैदान पर खराब प्रदर्शन के साथ-साथ मैदान के बाहर खिलाड़ियों के अनुशासन को लेकर भी कई विवाद सामने आए हैं। Harry Brook का नाइट क्लब में हुआ वाकया और Liam Livingstone द्वारा खुलेआम कोचों के रवैये की आलोचना करना इस बात का संकेत है कि टीम के भीतर सब कुछ ठीक नहीं है। इन विवादों ने बोर्ड पर दबाव बढ़ा दिया है कि वह एक ऐसा नेतृत्व तैयार करे जो अनुशासन और प्रदर्शन दोनों को प्राथमिकता दे।

हालांकि टीम के मुख्य कोच Brendon McCullum, जिन्हें 'Bazball' शैली के लिए जाना जाता है, अपने पद पर बने रहेंगे क्योंकि उनका अनुबंध अगले साल के अंत तक है। लेकिन नए चयनकर्ता की नियुक्ति यह तय करेगी कि England की टेस्ट क्रिकेट रणनीति में क्या कोई बुनियादी बदलाव होगा या नहीं। अब सबकी नजरें इस बात पर टिकी हैं कि Richard Gould और Rob Key आने वाले समय में टीम की मजबूती के लिए क्या नया रोडमैप तैयार करते हैं।

पूरी खबर पढ़ें: https://thegurugyan.com/todaymatchprediction/england-cricket-mein-bawaal-naya-selector-dhoondh-rahe-ya-bazzball-ka-future/

0
279 views    0 comment
0 Shares



विजय कुमार, वरिष्ठ पत्रकार
विशेष रिपोर्ट:

भारत में शिक्षा को “राष्ट्र निर्माण की नींव” कहा जाता है।
लेकिन अगर उसी नींव को खोखला करने वाले लोग सिस्टम के भीतर बैठ जाएं,
तो सवाल केवल भ्रष्टाचार का नहीं, बल्कि पूरे राष्ट्र के भविष्य का हो जाता है।

गया का जिला शिक्षा पदाधिकारी (DEO) कार्यालय आज इसी सड़े हुए तंत्र का जीवंत उदाहरण बन चुका है—जहां शिक्षा नहीं, बल्कि फाइलों की दलाली, रिश्वतखोरी और अमानवीय संवेदनहीनता का कारोबार चलता रहा।

'फाइलों का कब्रिस्तान"
या
भ्रष्टाचार का अड्डा?

विगत 13 जनवरी 2026 को जब जिलाधिकारी शशांक शुभंकर ने डीईओ कार्यालय परिसर में लगाए गए जनता दरबार में लगभग दो सौ शिक्षको की खुद शिकायतें सुनीं,
तो जो सामने आया वह किसी एक दिन की गड़बड़ी नहीं थी—
यह वर्षों से पनपते एक “सिस्टमेटिक करप्शन” का खुला दस्तावेज था।
फाइलें महीनों नहीं, सालों तक दबाकर रखी गई थी।
लोग न्याय के लिए भटकते रहे, लेकिन दफ्तर के अंदर “फाइल चलाने” की असली शर्त थी—रिश्वत।

सबसे बड़ा कलंक:
"शिक्षक ही शिकार"
गया की एक महिला शिक्षक—शांति कुमारी—का मामला इस सड़े हुए तंत्र की सबसे भयावह तस्वीर पेश करता है।
19 वर्षों से वेतन नहीं
बार-बार अपमान, उत्पीड़न
वेतन बिल बनाने के लिए रिश्वत की मांग
यह केवल एक व्यक्ति की पीड़ा नहीं, बल्कि पूरे सिस्टम की बेशर्मी है।

यह सीधा-सीधा सविधान का उल्लंघन है:
अनुच्छेद 14 (समानता का अधिकार)
अनुच्छेद 16 (सरकारी नौकरी में समान अवसर)
अनुच्छेद 21 (जीवन और गरिमा का अधिकार)
प्रश्न यह है—क्या एक शिक्षक का जीवन, उसकी गरिमा, उसका अधिकार—इस सिस्टम के लिए कोई मायने नहीं रखता?

डीएम की कार्रवाई: एक उम्मीद या अस्थायी इलाज?
जिलाधिकारी ने वेतन रोकने, स्थानांतरण करने और जांच बैठाने जैसे कदम उठाए—यह सराहनीय है।

लेकिन क्या यह पर्याप्त है?

क्या सिर्फ कुछ लिपिकों पर कार्रवाई से यह सड़ा हुआ ढांचा सुधर जाएगा?
या फिर यह केवल “ऊपरी मरहम” है, जबकि बीमारी अंदर तक फैली हुई है?

सवाल जो जवाब मांगते हैं
19 साल तक वेतन क्यों नहीं मिला?
जिम्मेदार अधिकारियों पर अब तक आपराधिक मामला क्यों नहीं?
शिक्षा विभाग के उच्च अधिकारियों की भूमिका क्या रही?
क्या यह अकेला मामला है या एक बड़े घोटाले की झलक?
यह सिर्फ भ्रष्टाचार नहीं—यह राष्ट्र के खिलाफ अपराध है।

जब एक शिक्षक को ही न्याय नहीं मिलता, तो वह बच्चों को क्या सिखाएगा?
जब शिक्षा तंत्र ही भ्रष्ट हो जाए, तो अगली पीढ़ी का चरित्र कैसे बनेगा?

यह केवल आर्थिक घोटाला नहीं
यह नैतिक पतन है।
यह संवैधानिक मूल्यों की हत्या है।

निष्कर्ष: अब चुप रहना अपराध है
यह समय है जब:
दोषियों पर FIR और कड़ी कानूनी कार्रवाई हो,
पूरे शिक्षा विभाग की स्वतंत्र जांच (CBI/न्यायिक जांच) हो
पीड़ित शिक्षक को तत्काल न्याय और मुआवजा मिले
अगर अब भी कार्रवाई नहीं हुई, तो यह केवल एक शिक्षक का नहीं, बल्कि पूरे समाज का हार होगा।

“जब शिक्षक रो रहा हो, तो समझिए—देश का भविष्य खतरे में है।”

0
0 views    0 comment
0 Shares