logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

یہ غزل بزبانِ اردو،راجہ اظہر علی خان نے کہی ہے۔جس پر ایک سرسری نظر رمیز راجہ نے گزاری۔پیش ہے اردو کے قارئین کے ححضور

*متن غزل:*

سارے جہاں کی ہے سجاوٹ کمال

زینت کمال کی ہے اور بناوٹ کمال

خواب و خیال و آرزو کا یہ چمن

دلِ مجروح کی ہے سنسناہٹ کمال

کٹتا جاتا ہے سفرِ مسلسل کی ماند

اٹھتے ہوئے پاؤں کی ہے آہٹ کمال

جستجوئے سفر ہے، منزل گُریزاں

گزرتے لمحوں کی ہے تھکاوٹ کمال

چہرہ ہے قمر جیسا، قد ہے سرو سا

چال ہرن جیسی اور مسکراہٹ کمال

کاغزِ سفید پہ خط کشیدہ سطور

اظہر ہر حرف موتی، لکھاوٹ کمال

*مختصر تشریح:*

*مطلع:* شاعر کائنات کی تخلیق کے حسن سے متاثر ہے۔ ہر شے کی سجاوٹ، زینت اور بناوٹ میں "کمال" نظر آتا ہے۔ یہ رب کی قدرت کا اعتراف بھی ہے۔

*دوسرا شعر:* دل کے زخمی ہونے کے باوجود، خوابوں اور آرزؤں کا چمن سنسنا رہا ہے۔ یعنی امید کی آواز درد پر غالب ہے۔

*تیسرا شعر:* زندگی ایک مسلسل سفر ہے جو کٹتا جا رہا ہے۔ شاعر اٹھتے قدموں کی آہٹ کو بھی کمال کہتا ہے، کیونکہ ہر قدم استقامت کی علامت ہے۔

*چوتھا شعر:* انسان مسلسل منزل کی جستجو میں ہے، مگر منزل ہمیشہ آگے سرک جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جو تھکاوٹ آتی ہے، وہ بھی زندگی کی حقیقت اور کمال ہے۔

*پنجم شعر:* محبوب کے حسن کی کلاسیکی تشبیہات۔ چہرہ چاند، قد سرو، چال ہرن اور مسکراہٹ کمال۔ روایتی استعاروں کو نئی تازگی دی گئی ہے۔

*مقطع:* شاعر اپنے فن پر فخر کرتا ہے۔ سفید کاغذ پر لکھی ہر سطر موتی ہے، اور ہر حرف کی لکھاوٹ کمال ہے۔ "اظہر" تخلص کے ساتھ شاعر نے اپنی شناخت بھی ثبت کر دی۔---

(رمیز راجہ)

20
6561 views

Comment