بنگال انتخابات میں ووٹوں کی صحت پر سوالات اٹھنے لگے
بنگال: ٹی ایم سی نے حالیہ انتخابات کے نتائج پر دو اہم سوالات اٹھائے ہیں جنہوں نے ملک کے جمہوری نظام کو چیلنج کیا ہے۔ پہلا سوال 27 لاکھ ووٹروں کی ووٹنگ کی صحت کے حوالے سے ہے جن کے حق رائے دہی کو بلاوجہ محدود کیا گیا ہے۔ اس تعداد میں تقریبا 50 سیٹیں ایسی ہیں جہاں کٹے گئے ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ ہیں، اور ان ووٹروں کی اپیلوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس باگچی نے بھی اس مسئلے پر سوال اٹھایا تھا کہ اگر جیت کا فرق کٹے گئے ووٹروں سے کم ہو تو کیا ہوگا۔
دوسرا سوال ٹی ایم سی کے رہنما ابھیشیک بنرجی کے انکشافات سے متعلق ہے جنہوں نے بتایا کہ ووٹ گنتی کے دوران شام 5 بجے سے 8 بجے تک ان کے ایجنٹس کو ووٹ گنتی مرکز سے نکال دیا گیا اور اس دوران سی سی ٹی وی بند کر دیا گیا۔ ابھیشیک نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مدت کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ دونوں سوالات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور ججوں کی طرف سے بھی ان پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔