logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

میرے گھر میں ابھی تک چڑیوں کا بسیرا ہے

میرے گھر میں ابھی تک بدستور گھریلو چڑیوں کا بسیرا ہے۔ میرا بچپن کا زمانہ تھا ۔ میں مسجد سے قاعدہ پڑھ کر گھر واپس آیا تھا۔ مجھے میری دادی مرحومہ نے اپنے قریب میں بیٹھالیا تھا۔ وہ مجھے اپنے ہاتھ سے مَکی کی روٹی سروسوں کے ساگ کے ساتھ کِھلا رہی تھیں۔ یہاں میں یہ بتانا اپنا اَخلاقی فرض سمجھتا ہوں کہ میری دادی مرحومہ نے میرے لیے 'مُخّیاری' نام کی بھینس کا دودھ بھی مٹی کے گلاس میں ڈال کر رکھا تھا۔ وہ ہر ایک لقمے کے بعد مجھے گلاس سے دودھ کا گھونٹ پلاتی اور ہر مرتبہ بسم اللہ کہتی جاتی تھیں۔ میری کفالت میری والدہ محترمہ سے زیادہ میری دادی مرحومہ نے کی تھی۔ اماں دادی کھانا کِھلائے جا رہی تھیں کہ اچانک مکان کی چَھت میں چڑیوں نے شور و غُل مچا دیا۔ اسی اثنا میں اماں دادی کہنے لگی کہ سانپ نے چڑیا کے گونسلے پر حملہ کر دیا ہے۔ تھالی کو ایک طرف محفوظ جگہ پر رکھ کر ،وہ جلدی جلدی اٹھیں اور کوزے میں پانی بھر کر چھت میں اُس طرف زور زور سے پھینکنے لگی جہاں پر سانپ تھا۔ وہ ایک لاٹھی سے اُس جگہ کو پیٹتی اور پانی کے چھینٹے مارتی جاتی تھیں۔ خوش قسمتی سے سانپ واپس بھاگ کر مُنڈھیر کے ”چال“ میں گُھس گیا۔ میں نے دادی جان سے پوچھا کہ سانپ تو بھاگ گیا ہے لیکن اِن چڑیوں نے ابھی تک چہچانا اور شور مچانا موقوف نہیں کیا۔ تو اماں جان نے مجھے جواباً کہا کہ سانپ تو چلا گیا ہے لیکن ایک مقام سے اس نے چڑیا کے اَنڈے کھا لیے ہیں اور دوسرے گونسلے سے ایک نومولود بچہ اس نے اپنا نوالہ بنا کر ظالم پیٹ کی آگ بجھا لی۔ تبھی یہ چڑیاں اتنا شور مچا رہی ہیں۔ اصل میں یہ چڑیاں اپنے نقصان پر واویلا کر رہی تھیں۔ بس! پھر کیا تھا جب کچھ شور و غوغا کَم ہوا تو مَیں نے کہا دادی جان اب ہم کھانا تناول فرمائیں۔؟ میری یہ خواہیش سُن کر دادی جان پلیٹ اٹھانے کے لیے برامدے کے شمال مشرق کی سمت گئیں۔ کیا دیکھتی ہیں پلیٹ اُلٹی یعنی اوندھے منہ یا یوں کہیں منہ کے بَل مٹی کے فرش پر بے یار و مدگار پڑی ہے اور روٹی اور سبزی۔۔۔ بھلا ہو مرغیوں کا انہوں نے اُسے بڑی سُرعت کے ساتھ ٹھکانے لگا دیا تھا۔ اب شاید آپ کے ذہین میں عین ممکن ہے کہ یہ سوال پیدا ہوا ہو کہ وہ جو مٹی کے گلاس میں ”مخیاری “ کا دودھ تھا اس کا کیا بنا تھا؟ تو میں بڑی سادگی سے آپ کی عدالت میں اعترافاً عرض کرتا ہوں کہ اُسے میں نے اُسی شور شرابے کے وقت پی لیا تھا۔ خیر ! اُس ظالم صفت سانپ نے چَھت میں بنے چڑیوں کے گونسلے اور اُن کی مستقبل کی امیدیں اجاڑ دی تھیں۔ دادی اماں کو بھی اس واقع سے بڑا صدمہ پہنچا تھا۔ لیکن اُس کے بعد سے میں متواتر دادی مرحومہ سے اِن گھریلو چڑیوں کے بارے میں طرح طرح کے سوالات پوچھتا رہتا تھا اور وہ مجھے اِن کے متعلق بے حد قیمتی معلومات فراہم کیا کرتی تھیں۔ تب سے لیکر آج تک میں اِن گھریلو چڑیوں کو اپنے گھر کے افراد، کی طرح دیکھ رہا ہوں۔ دادی جان تو اللہ کو پیاری ہو چکی ہیں! اس دوران چڑیوں کے جوڑے بدلتے رہے،چڑیاں بدلتی رہی، گونسلے بنتے ٹوٹتے رہے، کبھی چوہے اور کبھی سانپوں کے حملے ہوتے رہے۔ نہ جانے کتنے ہی سانپوں کے حملے دادی جان نے ناکام بنائے تھے۔ اَنگنت مرتبہ اِن معصوم ننھی جانوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے گھر اجڑتے دیکھے، اپنے لختِ جگر کھوئے اور خون کے آنسوں بہائے ہوں گے۔ مگر نہ چڑیوں نے ہمارے گھر سے کہیں اور جانا گوارا کیا نہ ہم نے اِن چڑیوں کے ٹکھانے بدلے۔ مارچ اپریل کے مہینے میں یہ چڑیاں تنکا تنکا چن کر اپنے گونسلے بناتی ہیں،اَنڈے دیتی ہیں اور مدتِ معیّن پر بچے نکالتی ہیں،اُنہیں اپنی چونچوں میں چوگ دانہ لا کر دیتی ہیں، انہیں اُڑنا سکھاتی ہیں۔ انہیں اپنا پریوار بڑھا کر خوشی ملتی ہے اور ہمیں انہیں اپنے گھر میں ہنتسا بستا دیکھ کر مسرّت اور حظ کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ سچ میں گھریلو چڑیاں گھر کی شان ہیں۔ بھلے ہی بزرگ انہیں ترچھی نگاہوں سے دیکھیں مگر نو جوان نسل کے لیے یہ کائینات کا فطرتی حسن ہے۔ جیسے جیسے شہروں اور دہیاتوں میں مکان پکے یعنی سیمنٹی بنائے جارہے ہیں۔ ویسے ویسے یہ چڑیاں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پکے مکانات میں چڑیوں کے رہنے اور بسیرے کے لیے مناسب جگہ رکھنی چاہیے۔ لیکن دہیی علاقوں میں ابھی بھی زیادہ تر مکانات کچے ہیں ،خاص طور پر جن دہیات میں ابھی تک سڑک جیسی اہم اور بُنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہیں وہاں پکے مکان کَم ہوتے ہیں۔ایسی جگہوں پر ابھی تک چڑیوں کا بسیرا ہے۔

11
198 views

Comment