logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

مینڈھر کے سیاسی فَلک پر اُمّیدوں کے تین ستارے درخشاں

سرحدی تحصیل مینڈھر کے فلکِ ساسیت کے مستقبل کے تین ستارے، آئے روز پرینٹ میڈیا کی جَلی سروخی بَن رہے ہیں، سوشل میڈیا کے آسمان پر سیاسی کَل کے گوڑے دوڑاتے ہوئے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ جبکہ الکٹرانک میڈیا کے رنگین اسٹوڈیوز تو اِن تینوں سیاسی شہزادوں کے بغیر سجتے جچتے ہی نہیں۔ میری میراد، ذیشان جاوید رانا، چوہدھری عمران ظفر اور واجد بشیر خان سے ہے۔ یہ تینوں مینڈھر کی سیاست کے آسمان کے مستقبل کے نوجوان اور صحت مند لیڈر معلوم ہوتے ہیں۔ اگرچے ماہرینِ سیاسیات ان تینوں نوجوان لیڈروں کو سیاست کے طفلِ مکتب کہتے ہیں مگر میرے نزدیک کبھی دارا ، سکندر، 'شاہِ قیصر و کسرٰی' بھی تو بچے ہی تھے۔ تو پھر کیا ہوا ماہرینِ سیاسات اگر انہیں سیاست کا طفلِ مکتب کہتے یا گردانتے ہیں۔ اُلٹی مشین سے چاند بھی تو نظر نہیں آتا تو ماہرِ چشم سے دریافت کریے گا کہ آنکھوں کا کیا قصور ہے ؟ بہرحال بزرگوں کا کہنا ہے کہ کانٹے تولیداً ہی تیز دار والا منِہ مبارک رکھتے ہیں۔ سیانے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ” قاضی صاحب کے گھر کے وہ میرا مطلب ہے وہ فلانے فلانے ۔۔۔بھی سیانے ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اور بہت سارے ماہر بین الاقوامی شہرت کے حامل سیاسی تجزیہ نگاروں کی بات کو بھی اگر کچھ دیر کے لیے ہی سہی حقیقت تسلیم کر لیں تو وہ کہتے ہیں کہ اِن تینوں اُبھرتے ہوئے نوجوان لیڈران میں کچھ چیزیں مشترک اور یکساں پائی جاتی ہیں۔ اب آپ یہ بھی پوچھیں گے کہ مثلاً۔۔ ۔تو بتائے دیتا ہوں کہ اِن ںتینوں میں کیا کیا چیزیں مشترک ہیں۔ 1۔ اِن تینوں میں بچاری سیاسی چکّیوں میں پِسی کُچلی،کُٹی اور پیٹی مینڈھر کی عوام کی بے لوث خدمت کرنے کا فطرتی جذبہ ہے۔ 2۔ اِن تینوں میں محتاجوں،ضرورت مندوں اور لاچار و بے بس خواتین و حضرات کی مدد کرنے کا شوق بھی فطرتی طور پر موجود ہے۔ 3۔ تینوں کو سیاست کا اسکول یاد ہے۔ اور سیاست کی پٹی یا حروفِ تہجی سے بھی خوب واقف ہیں۔ پیڑ ہوں تو سائے کم یا زیادہ ہو ہی جایا کرتے ہیں۔ اور پھر آپ نے یہ بھی تو سُن رکھا ہے کہ ”سر ہوں تو۔۔۔۔۔۔دستاریں مل ہی جایا کرتی ہیں۔ 4 ۔ اگرچے ان تینوں کے سیاسی نظریات خاصے مختلف ہی کیوں نا ہوں مگر جس سفر پر یہ حضرات سیاسی 'توشہ' لیے رواں دواں ہیں وہ راستہ ایک ہی سیاسی گھاٹ کی جانب جاتا ہے۔ اس سیاسی راستے پر سیاسی دکانیں بھی ہیں جن پر سیاسی سودا فروخت ہو رہا ہے۔ایسے میں یہ عین ممکن ہے کہ چلتے چلتے کسی نا کسی سیاسی دکان پر یہ تینوں اُبھرتے ہوئے مستقبل کے نو جوان لیڈر مِل جائیں تو ہاتھ پنجہ ،دست مصاحفہ اور رانیقہ معانقہ کی عارضی رسمِ سیاست بھی ادا ہو جائے۔ لیکن اِن تینوں سیاسی بھائی بندوں میں ایک چیز واجد بشیر خان کو قدرِ منفرد بناتی ہے کہ واجد بشیر خان کا تعلق کسی قابلِ ذکر سیاسی بیک گراؤنڈ سے نہیں ہے مگر ان کے خون میں جوشِ سرعت، آواز میں یکطرفہ قسم کی ٹیون مگر زبردست اور قافلے کی رہبری کا ہنر بدرجہء اتم موجود ہے۔ اگر بات کی جائے ذیشان جاوید رانا کی تو یہ صاحب تو وقعتاً بڑی عالمی و قومی شہرت یافتہ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور قافلے کی رہبری اِن کو وراثت میں ملی ہوئی ہے۔ جہاں تک چوہدھری عمران ظفر کا تعلق ہے تو وہ بھی اُس دادا صاحب کے پوتے ہیں ۔۔۔میری میراد ،مرحوم چوہدھری عبد الغنی سے ہے جن کو ہندوستان کی مرکزی سیاست میں عنصرِ داخلیت کا دجہ حاصل تھا۔ یہ تینوں نو جوان لیڈر عوامِ مینڈھر کی تازہ دَم امّیدوں کے فلک پر درخشاں ستاروں کی مانند وجودیت رکھتے ہیں۔

1
92 views

Comment