logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

کشمیر سے تعلق رکھنے والی 'دُخترانِ ملّت' کی بانی، آسیہ اندرابی، کو عدالت نے سزائے تاحیات سنا دی

آسیہ اندرابی جنہیں عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی وہ کون ہیں؟ آئیے مختلف سائٹس جیسے کے گوگل،کامن پیڈیا اور ویکی پیڈیا پر اُن کے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق
آسیہ اندرابی 1962ء میں پیدا ہوئیں ۔ آسیہ اندرابی نے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور صوبہ کشمیر کے اعلی تعلیم کے تاریخی ادارہ، کشمیر یونیورسٹی سے عربی سبجیکٹ میں پوسٹ گریجویٹ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے کشمیر میں ملکِ بھارت کے خلاف مزاحمت کا راستہ چنا اور اسے اپنا مقصد بنا لیا، وہ کشمیر میں علیحدگی پسند خواتین میں سب سے نمایاں اور اہم مانی جاتی رہیں ہیں ۔ سید آسیہ اندرابی کی شادی 1990ء میں کشمیری ملی ٹینٹ تنظیم حزب المجاھدین کے بانی رکن قاسم فاکتو سے ہوئی۔ ان کے خاوند 1992ء سے جیل میں قید ہیں۔ سید آسیہ اندرابی پہلے سے ہی کشمیر میں ایک بڑی خواتین جہادی تنظیم کی سربراہ کے طور پر مشہور تھیں۔ وہ اس تنظیم میں شامل خواتین کو 'دختران ملت کی سپاہ' کے نام سے تعبیر کرتی رہی ہیں۔ آسیہ اندرابی نے کشمیر کی وادی میں کئی مظاہروں میں حصہ لیا۔ وہ 2010ء میں "مسرت عالم" کی ریلی حمایت کرنے کے لیے زیادہ مشہور ہیں جس کے لیے انہوں نے اپنا دختران ملت کا نیٹ ورک کشمیر بھر میں ریلیاں نکالنے کے لیے استعمال کیا ۔ ستمبر 2013ء میں آسیہ اندرابی کے تین بھتیجے دہشت گردوں سے تعلق رکھنے کے سلسلے میں پاکستان میں پکڑے گئے ۔ 25 مارچ 2015ء کو آسیہ نے کشمیر میں پاکستان کا قومی ترانہ گاتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرایا ۔ بعد ازاں انھوں نے پاکستان کے قومی دن پر سرینگر میں بھی پاکستانی پرچم لہرایا ۔ آسیہ اندرابی نے وادی کشمیر کی سیاست میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ 12 ستمبر 2015ء کو علیحدگی پسند رہنما سیدہ آسیہ اندرابی نے ایک گائے ذبح کرکے اس کی ویڈیو سوشل پلیٹفارمز پر شائع کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کی پابندی پر احتجاج کیا ۔ 28 اگست 2010ء کو جموں و کشمیر کی پولیس نے ان کو مبینہ طور پر ملکِ بھارت کے خلاف تحریک چلانے اور تشدد پر ابھارنے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا 17 ستمبر 2015 کو ان کے خلاف مختلف مقدمات درج کر کے دوبارہ اسے گرفتار کر لیا گیا جن میں پاکستانی پرچم لہرانے اور پاکستان سے ٹیلیفونک رابطے رکھنے کا الزام بھی شامل تھا۔ ذرائع کے مطابق آسیہ اندرابی کو ناسازگار حالتِ صحت کی وجہ سے سرینگر رام باغ وومین پولیس اسٹیشن بھیجا گیا۔ عدالت نے اس کی ضمانت منظور کر لی لیکن اس کے باوجود انہیں پھر سے گرفتار کر لیا گیا اور کشمیر میں بڑے پیمانے پر اُن کی گرفتاری پر احتجاج کیا گیا۔ دراثنا عدالت نے ان کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے انہوں عمر قید یعنی تاحیات کی سزا سنائی ہے۔ ان کی دو ساتھی خواتین، فہمیدہ اور صوفی کو بھی عدالت کی جانب سے 30-30 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔

11
1849 views

Comment