مَیں اسیرِ رُکنِ پارلیمنٹ،ایران کے مظلوموں کے لیے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ وَقف کرتا ہوں : انجنئیر رشید
کشمیر، 25 مارچ، بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے صوبہء کشمیر سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ، انجنئیر رشید نے ایران کے مظلومین کے لیے اپنی ایک ماہ کی 'سیلری' وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکا اور اسرائیل نے جنگ مُسلّط کی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں قیمتیں اِنسانی جانوں کا ذیاں ہو رہا ہے۔ انجنئیر رشید نے پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر منتخب 'چیمبر' کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی خود مختار اسلامی ریاست پر جو مشترکہ حملہ کیا ہے وہ بے جواز ہے۔ انہوں نے زور دار انداز میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر اٹھائے گے اقدام کی مزمت کی اور ایران کے حساس مقامات پر ایر اسٹرائیکس اور فضائی حملوں کو قومِ ایران کے لیے جینوسائیڈ کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو مُلک اپنے آپ کو 'سپریم پاور' کہلواتا ہے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کی علمبرداری کی بات کرتا ہے وہی ایک خود مختار اسلامی ریاست پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور معصوموں بے گناہوں اور بے ضرر انسانوں کی جانیں لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادیِ کشمیر سے ایران کی ثقافت جُڑی ہوئی ہے۔ بھائی چارے کی ایک نا ملنے والی مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے بچے اپنے منی بینک لاکر، سائیکلیں اور دیگر قیمتی ایشا ایران کے مظلوموں کے لیے رواناں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی بغیّور مائیں اور بیٹیاں اپنے قیمتی زیورات ایران کے جنگ زدگان کے لیے پیش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کشمیر کے لوگوں کے جذبے کو لا مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس حد تک تیار ہیں کہ وہ خود بھی فروخت ہو جائیں اور ایران کے لوگوں کے کام آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے باشعور اور دردمندان نو جوانوں نے اپنی گاڑیاں،بائیکس اور اسکوٹیز تک قوم ایران کے لیے وقف کر دیں ہیں۔ انہوں نے 'چیر' کو مخاطب کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر بھی زور دیا اور کہا کہ وہ بھی ایران کے مظلوں کی بروقت اور ہر طرح کی مالی اور اخلاق امداد کریں۔