ٹرمپ نے پاور پلانٹ پر حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ نے پاور پلانٹس پر کچھ دیر پہلے جو حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کی جانب سے اس کا جواب ایک بہت اہم اور دلچسپ حقیقت کو سامنے لاتا ہے… امریکہ نے ایران پر اب تک تقریبا" وہ سب کچھ کردیا جو وہ کرسکتا تھا لیکن سچ یہ ہے کہ ایران نے اسکی شہہ رگ دبوچ لی ہے۔
ٹرمپ کے آج کے اعلان کے جواب میں ایران کے جواب سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان "اس وقت" اصل پنجہ آزمائی کس چیز پر ہو رہی ہے؟
ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے حیرت انگیز اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بہت مثبت اور نتیجہ خیز "مذاکرات" ہو رہے ہیں اور اسی بنیاد پر ایران کے پاور پلانٹس اور انرجی انفراسٹرکچر پر ہونے والے ممکنہ حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ کا زور "مذاکرات" پر تھا۔
لیکن…
یہاں کہانی ایک دم ٹوئسٹ مارتی ہے جب ایران ٹرمپ کے اس بیان کو فوری اور سختی سے مسترد کر دیتا ہے۔ ایران نے صاف اور دوٹوک مؤقف دیا ہے کہ سوری، "کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے"۔۔۔۔
"نہ براہ راست، نہ خفیہ، نہ کسی تیسرے فریق کے ذریعے"۔۔
لیکن اسکے بعد ایران نے جو کہا وہ بتاتا ہے کہ اصل پنجہ آزمائی اس وقت چیز کی چل رہی ہے۔
ایران نے مذاکرات کے انکار کے ساتھ ہی کہا کہ یہ سب ایک سوچی سمجھی "حکمت عملی" ہے…اور ٹرمپ کی اس حکمت عملی کا اصل مقصد ہے۔۔۔۔ کسی بھی طرح۔۔۔۔ عالمی منڈی میں "تیل کی قیمتوں کو نیچے لانا”۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی ٹرمپ نے حملے روکنے اور مذاکرات کا اعلان کیا…
تیل کی قیمتیں نیچے آنا شروع ہو گئیں۔۔۔
عالمی اسٹاک مارکیٹس اوپر چلی گئیں۔۔۔
یعنی ایران کا مؤقف کم از کم اثرات کے اعتبار سے
بالکل بے بنیاد بھی نہیں لگتا…
ایران واضح کہہ چکا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مذید بڑھ کر 200 ڈالر تک پہنچ جائے۔ جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہے…وہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح تیل کی قیمتیں نیچے آئیں، اور عالمی سپلائی بحال ہو جائے…کیونکہ یہی وہ بحران ہے
جس نے اس وقت پوری دنیا کی حکومتوں کو بے چین کر رکھا ہے۔ دنیا کے سارے ممالک غصے میں ٹرمپ کو گھور رہے ہیں کہ یہ کیا کیا تم نے۔
جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمت تقریباً 60–70 ڈالر سے بڑھ کر 147 ڈالر فی بیرل تک پہنچی جس نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
تیل کی قیمتیں کم لانے کے لئیے پہلے امریکہ نے تاریخ کا سب سے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک ذخیرے سے 180 ملین بیرلز، یعنی تقریباً 28 ارب لیٹر تیل مارکیٹ میں ڈالنے کا اعلان کیا۔۔۔ صرف اس لیے کہ عالمی قیمتوں کو نیچے لایا جا سکے۔
پھر دنیا نے ایک اور حیرت انگیز چیز دیکھی کہ اونٹ پہاڑ کے نیچے کیسے آیا۔ یعنی جس امریکہ نے ایران پر پابندیاں لگائ ہوئ تھیں، اسی امریکہ نے تیل کی قیمتیں کم لانے کے لئیے ایران پر سے پابندیاں ہٹا دیں اور ایران کا تیل مارکیٹ میں بیچنے کی وقتی اجازت دی تاکہ جنگ کے اثرات کو عالمی توانائی مارکیٹ پر کم کیا جا سکے۔
امریکہ روز روز مطالبہ کرتا ہے کہ ہارموز کھولو۔ کبھی دوسرے ملکوں سے کہتا کہ تم کھلواو۔ کبھی اپنے پٹھو ممالک سے کہتا کہ تم سفارش کرو، کبھی کہتا چین یہ کام کرواسکتا ہے، کیوں نہیں کررہا اور کبھی نیٹو پہ ناراض ہوتا ہے کہ تم نہیں کھلوارہے۔
ہرموز کھلوانے اور تیل کی قیمتیں نیچے لانے کے لئیے ٹرمپ اس حد تک زچ ہوئے کہ کل دھمکی دی اور وہ بھی پورے تنتنے کے ساتھ کہ 48 گھنٹوں کا وقت دے رہا ہوں ورنہ سب سے بڑے پاور پلانٹس پر حملہ کردیں گے۔۔۔ لیکن ایران نے کہا کہ جو تھوڑی بہت کھولی ہے، وہ ہرموز پوری ہی بند کردیں گے۔ ایران کی جوابی دھمکی اتنی موثر ثابت ہوئ کہ ابھی 48 گھنٹے پورے بھی نہیں ہوئے تھے کہ ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے۔
تیل کی قیمتوں اور ہرموز نہ کھلنے کے اثرات کتنے ہیں، آپ صرف انڈیا میں اسکے پڑنے والے اثرات کا ہی جائزہ لے لیں۔ پٹرول مہنگا، ورک فرام ہوم، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی اور اب مستقبل میں لاک ڈاؤن کی خبریں۔۔۔
یہ جنگ اب صرف ہتھیاروں کی نہیں رہی…
بلکہ یہ اب بن چکی ہے تیل کی جنگ، معیشت کی جنگ اور عالمی کنٹرول کی جنگ۔
ایک طرف امریکہ ہے جو ‘مذاکرات’ کی بات کر رہا ہے…دوسری طرف ایران ہے جو اسے ‘دھوکہ’ اور ‘مارکیٹ گیم’ قرار دے رہا ہے…اور حقیقت یہ ہے کہ
اس وقت دنیا ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے…
جہاں ایک غلط قدم۔۔۔عالمی معیشت کو ہلا سکتا ہے
اور ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔
ہماری تحریریں، وی لاگس اور پوڈ کاسٹس حاصل کرنے لئیے ہمارے واٹس ایپ گروپ کو جوائن کیجئیے۔ یہاں فیس بک پر ہمیں فالو کیجئیے۔
باقی یہ ضرور بتائیے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں؟
کیا واقعی مذاکرات ہو رہے ہیں؟
یا یہ صرف تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کھیل ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔