logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

Breaking news Iran ایران کی بڑی دھمکی

سنسنی خیزی آج کے میڈیا کا ہنر یا اثاثہ ہے ۔۔۔ ایک بڑے میڈیا ادارے کا پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس کے انگریزی متن کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:
"جنگ جب تیسرے ہفتے میں داخل ہوتی ہے تو منظر صرف میزائلوں اور تیل کی ترسیل تک محدود نہیں رہتا؛ کہیں زیادہ خاموش مگر گہرا محاذ سمندر کی تہہ میں کھلتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران کا اصل دباؤ اب صرف تیل کے بہاؤ پر نہیں، بلکہ اس پوشیدہ رگ پر بھی ہے جو دنیا کی ڈیجیٹل زندگی کو رواں رکھتی ہے۔
آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے نیچے پھیلی وہ باریک مگر فیصلہ کن کیبلز، جو عالمی بینکاری، مصنوعی ذہانت اور ہماری روزمرہ آن لائن دنیا کی شہ رگ ہیں۔۔۔ آج ایک ایسے علاقے میں سانس لے رہی ہیں جہاں بارود کی بو اور جنگی تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
یہ وہ خاموش جنگ ہے جس کی گونج اسکرینوں پر نظر نہیں آتی، مگر اس کے اثرات پوری دنیا کو محسوس کروا سکتی ہے۔"
---
کیا واقعی ایک جنگ دنیا بھر میں پھیلے انٹرنیٹ نیٹ ورک کو بند کر سکتی ہے؟ یا یہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ایک خودساختہ کہانی ہے؟
آئیے ایک سادہ سا معروضی جائزہ لیتے ہیں۔

• خلیجی خطے کی اہم سمندری گزرگاہیں یعنی "آبنائے ہرمز" اور "بحیرۂ احمر" صرف تیل ہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ کی دنیا کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔
• حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر دنیا کے ان اہم راستوں میں شامل ہیں جہاں سمندر کے نیچے بچھائی گئی انٹرنیٹ کیبلز گزرتی ہیں۔
• دنیا بھر کے تقریباً 95 سے 97 فیصد انٹرنیٹ کا ڈیٹا انہی سمندری فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، یعنی ہماری روزمرہ ڈیجیٹل زندگی بڑی حد تک انہی پر منحصر ہے۔
• اگر ان کیبلز کو نقصان پہنچے تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ بین الاقوامی سطح پر انٹرنیٹ کی رفتار اور رابطہ متاثر ہو سکتا ہے۔
• ماضی میں اس کی مثال بھی سامنے آ چکی ہے کہ بحیرۂ احمر میں کیبل کٹنے کے واقعات نے کئی ممالک میں انٹرنیٹ کی رفتار کو متاثر کیا۔
• تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ کا نظام کسی ایک راستے پر منحصر نہیں بلکہ متعدد متبادل راستوں پر مشتمل ہے۔
• اسی لیے اگر کسی ایک علاقے میں مسئلہ پیدا ہو جائے تو ڈیٹا دوسرے راستوں سے منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس سے مکمل انٹرنیٹ بند نہیں ہوتا بلکہ صرف رفتار کم ہو سکتی ہے۔
• ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ انٹرنیٹ کیبلز عالمی بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں، کسی ایک ملک کی ملکیت یا کنٹرول میں نہیں ہوتیں، اور مختلف ممالک اور راستوں سے گزرتی ہیں۔
• اکثر کیبلز کے نقصان کی بڑی وجہ جنگ نہیں بلکہ جہازوں کے لنگر، ماہی گیری کے آلات یا قدرتی عوامل ہوتے ہیں، اس لیے ہر خرابی کو جنگی خطرہ سمجھنا درست نہیں۔
• خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ جنگی حالات میں خطرہ بڑھ جاتا ہے، مگر یہ کہنا کہ پوری دنیا کا انٹرنیٹ بند ہو جائے گا یا انسان کی پوری آن لائن زندگی ختم ہو جائے گی، ایک مبالغہ ہے۔ اصل خطرہ صرف عارضی سست رفتاری یا محدود علاقوں میں رکاوٹ کا ہوتا ہے۔

0
114 views

Comment