logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو

"تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟"
یہ وہ سوال ہے جو ایک عورت کی چوبیس گھنٹے کی بے لوث مشقت کو ایک لمحے میں مٹی میں ملا دیتا ہے۔
صبح فجر کے وقت جب دنیا گہری نیند کے مزے لے رہی ہوتی ہے، ایک عورت کی ہمت بیدار ہوتی ہے۔ بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرنا، ان کے یونیفارم، جوتے، اور لنچ باکس کی فکر سے دن کا آغاز ہوتا ہے۔ ابھی ایک مرحلہ ختم نہیں ہوتا کہ شوہر اور گھر کے بڑوں کے ناشتے کی ذمہ داری سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
سب کو رخصت کرنے کے بعد جب گھر خالی ہوتا ہے، تو وہ آرام نہیں کرتی بلکہ بکھرے ہوئے گھر کو سمیٹتی ہے، جھاڑو پوچا کرتی ہے اور کچن کے برتنوں سے نبرد آزما ہوتی ہے۔ دوپہر کا سالن، روٹی اور پھر بچوں کی واپسی پر ان کے یونیفارم کی ترتیب، کھانا کھلانا اور پھر سے برتن دھونا۔۔۔ یہ وہ چکر ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتا۔
عورت کی زندگی کے وہ پہلو جو کسی کو نظر نہیں آتے:
* بچوں کی ٹیوشن، بیماری میں ان کی تیمارداری اور دوائی کا حساب۔
* گھر کی معاشیات، سبزی، راشن کی ترسیل اور ایک ایک پائپائی کا توازن۔
* بڑے بوڑھوں کی خدمت اور ان کی ضرورتوں کا خیال۔
* پورے خاندان کے لین دین، رشتے داریاں نبھانا اور ہر خوشی غمی میں سب سے آگے رہنا۔
ہماری چھٹی کا دن تو عام دنوں سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ ڈھیر سارے کپڑوں کو دھونے اور استری کرنے کی نذر ہو جاتا ہے۔ گود میں بچہ، ادھوری نیند اور تھکا ہوا وجود لیے وہ صرف اس لیے مسکراتی ہے کہ کہیں یہ سننے کو نہ ملے کہ: "تم کرتی کیا ہو؟"
افسوس تو تب ہوتا ہے جب مرد اپنی ایک نوکری کو پہاڑ سمجھ کر گھر آ کر موبائل میں مگن ہو جاتا ہے، جبکہ ایک گھریلو عورت ایسی دس نوکریاں بغیر کسی تنخواہ اور چھٹی کے خاموشی سے کر رہی ہوتی ہے۔ اگر یہ سب ہماری ذمہ داری ہے، تو کیا ہمیں محبت اور مٹھاس کے دو بول سننے کا حق نہیں؟
ہمارے لیے اسوہ حسنہ موجود ہے:
ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے، جھاڑو لگاتے تھے اور اپنے کپڑوں کو خود پیوند لگاتے تھے۔ کیا آج کے مرد کی عزت (نعوذ باللہ) نبی کریم ﷺ سے زیادہ ہے؟
خدارا! عورت کی تھکن کو محسوس کریں۔ اگر کبھی اس کے کام میں ہاتھ بٹا دیں گے تو آپ کا رتبہ کم نہیں ہوگا بلکہ بڑھے گا۔ طعنے دینے کے بجائے کبھی ایک دن اس کے حصے کا کام کر کے دیکھیں، تب آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ دنیا کی وہ مشکل ترین نوکری ہے جس میں نہ تنخواہ ہے نہ چھٹی ہے اور نہ ہی استعفیٰ کی کوئی گنجائش ہے۔۔
عورت کی قدر کریں، کیونکہ وہ گھر کی بنیاد ہے، بوجھ نہیں۔ سید مکرم الدیں

0
58 views

Comment