logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

باپ کی خاموش قربانی

*باپ کی خاموش قربانی*

آج مغرب کے بعد ہماری دکان "علمی کتاب گھر" پر ایک مسکین باپ اپنے بارے سے بیٹے کے ساتھ آیا۔ باپ کے چہرے پر غربت اور افلاس کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ آنکھیں تھکی ہوئیں، لباس پرانا اور بدن پر بے بسی کا سایہ تھا، مگر معصوم بیٹے کی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک تھی۔ وہ دکان میں موجود ایک خوبصورت ٹوپی دیکھ کر خوشی سے اچھل رہا تھا۔ باپ نے بیٹے کی خوشی کی خاطر اپنی تمام ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال کر اس کی چھوٹی سی تمنا پوری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
میں نے ٹوپی کی قیمت اٹھاسی روپے بتائی۔ باپ کے پاس شاید اتنی رقم بھی بمشکل جمع تھی، مگر بیٹے کا شادماں چہرہ دیکھ کر وہ خود کو روک نہ سکا۔ کسی طرح پیسے اکٹھے کیے اور بیٹے کے سر پر وہ ٹوپی سجا دی۔ بچہ خوشی سے نہال تھا، اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ٹوپی سنبھالتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک نظر آرہی تھی۔ باپ کا دل بھی اس لمحے سکون اور خوشی سے لبریز تھا۔
مگر پھر وہ لمحہ آیا جس نے منظر ہی بدل دیا۔ بیٹے نے معصومیت سے باپ کی طرف دیکھا اور بولا:
"بابا! آپ بھی ایک ٹوپی لے لیں نا
باپ کا دل جیسے ایک پل کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی اتر آئی۔ معصوم بچے کو کیا معلوم کہ اس کا باپ کس کسمپرسی سے گزر رہا ہے اسے کیا پتا کہ ان اٹھاسی روپوں کے لیے باپ نے کتنے دن کی روٹی کم کی ہوگی، کتنے خواب ادھورے چھوڑے ہوں گے اور کتنی ہی حسرتوں کو دل میں دفن کیا ہوگا
مگر باپ نے فوراً مسکراہٹ کے پردے میں اپنا درد چھپا لیا اور نرم آواز میں بولا:
"بیٹا! ہم پھر کبھی لے لیں گے۔ ویسے بھی میری ٹوپی ابھی اچھی ہے
بیٹا ہنستا ہوا باپ کا ہاتھ تھام کر چل پڑا، وہ ٹوپی اس کے سر پر کسی تاج کی طرح چمک رہی تھی۔ مگر باپ کے دل میں ایک خالی پن تھا۔ وہ ٹوپی صرف ایک لباس نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا خواب تھی جسے غربت نے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
کاش! وہ بھی اپنے لیے ایک ٹوپی خرید سکتا۔ کاش! بیٹے کی معصومیت اسے یہ میٹھا درد نہ دیتی اور کاش! غربت کا یہ سایہ کسی باپ کے سر پر کبھی نہ پڑتا۔
آج کا یہ واقعہ لاکھوں باپوں کی کہانی ہے جو اپنی اولاد کی ایک مسکراہٹ کے لیے اپنی ہستی مٹا دیتے ہیں اور اف تک نہیں کرتے۔ اللہ پاک ان تمام باپوں کو سلامت رکھے جو خاموشی سے قربانیاں دے رہے ہیں، اور ان بچوں کو بھی شعور دے جو بڑے ہو کر اپنے باپ کی اس "پرانی ٹوپی" کی اصل قیمت سمجھ سکیں
محمد اکرم خان قاسمی جونپوری
علمی کتاب گھر شاہ گنج جونپور

2
78 views

Comment