Quality of oil
خام تیل سب ایک جیسا نہیں ہوتا؛ اس کی کوالٹی بہت فرق ڈالتی ہے۔ کچھ خام تیل ہلکا ہوتا ہے اور اسے ریفائن کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، جبکہ کچھ تیل بھاری، گاڑھا اور زیادہ آلودگیوں والا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ طے ہوتا ہے کہ ریفائنری اس سے کتنا مفید ایندھن بنا سکتی ہے اور کتنا منافع کما سکتی ہے۔ تیل کی کوالٹی عام طور پر API gravity اور سلفر کی مقدار سے دیکھی جاتی ہے؛ زیادہ API gravity عموماً ہلکے تیل کی علامت ہوتی ہے۔ 
ہلکا خام تیل ریفائنری کے لیے زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسے پروسیس کرنے میں کم لاگت آتی ہے اور اس سے زیادہ مقدار میں قیمتی مصنوعات، جیسے پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے ہلکے درجے کے خام تیل سے اکثر ریفائنریوں کو بہتر مارجن ملتا ہے۔ مارکیٹ رپورٹس بھی یہی دکھاتی ہیں کہ نسبتاً ہلکے crude slate سے زیادہ قیمتی ہلکی مصنوعات کی پیداوار بڑھتی ہے، جبکہ بھاری فیول آئل کا حصہ کم ہو جاتا ہے۔ 
اس کے برعکس، بھاری خام تیل زیادہ گاڑھا ہوتا ہے اور اس میں نجاستیں، خاص طور پر سلفر، زیادہ ہو سکتی ہیں۔ ایسے تیل کو صاف اور قابلِ استعمال ایندھن میں بدلنے کے لیے زیادہ پیچیدہ ریفائننگ یونٹس، زیادہ توانائی، اور زیادہ خرچ درکار ہوتا ہے۔ نتیجتاً اس سے نسبتاً کم قیمت والی مصنوعات، جیسے ہیوی فیول آئل، زیادہ نکل سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف تیل کی مقدار اہم نہیں ہوتی بلکہ اس کی نوعیت اور معیار بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔ 
سادہ مثال کے طور پر امریکی WTI عموماً تقریباً 39–41 API کے قریب سمجھا جاتا ہے، اس لیے اسے ہلکا اور نسبتاً آسانی سے ریفائن ہونے والا خام تیل مانا جاتا ہے۔ ایران لائٹ اس کے مقابلے میں درمیانی سے ہلکے درجے میں آتا ہے، تقریباً 33–36 API کے آس پاس۔ روسی یورالز عموماً 30–32 API کے قریب بتایا جاتا ہے اور اس میں سلفر نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے، جبکہ وینزویلا کا Merey تقریباً 16 API کے قریب بہت بھاری خام تیل کی مثال ہے۔ 
آسان الفاظ میں کہا جائے تو: جتنا ہلکا تیل ہوگا، اتنا ہی اسے ریفائن کرنا آسان اور سستا ہوگا، اور ریفائنری کے لیے منافع کمانے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ اسی لیے دنیا میں صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی ملک کے پاس کتنا تیل ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ تیل کس معیار کا ہے۔ عالمی تیل کی سیاست، تجارت اور ریفائنریوں کی حکمتِ عملی میں یہی فرق بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔