ایران
ہم تاریخ کو بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
دنیا حیران ہے کہ ایران کس طرح ایسی وسعت، ایسی شدت اور ایسی فیصلہ کن طاقت کے ساتھ امریکی فوجی اڈوں کو مٹا رہا ہے جس کے لیے کسی نے خود کو تیار نہیں کیا تھا۔
صرف چار دنوں کے اندر ایران نے اس پورے خطے میں اپنی عسکری قوت کی نئی سرحدیں قائم کر دی ہیں۔ دنیا کے سب سے مہنگے اور قیمتی فوجی اڈے، اربوں ڈالر کی مشینری اور دفاعی نظام۔۔۔۔۔۔۔۔سب کچھ لمحوں میں خاکستر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب میں قائم امریکی فوجی اڈے دنیا کے عظیم ترین عسکری مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو تعمیر کرنے میں دہائیوں لگیں اور کھربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ مگر آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تیس برس کی فوجی سرمایہ کاری دھوئیں کے بادلوں میں تحلیل ہو رہی ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ کروڑوں ڈالر کے ریڈار ایک ہی لمحے میں مٹی کا ڈھیر بن رہے ہیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ پورے کے پورے فوجی اڈے خالی چھوڑ دیے گئے ہیں—وہ جل رہے ہیں، تباہ ہو رہے ہیں اور بکھر رہے ہیں۔
اور میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اپنی پوری تاریخ میں امریکہ نے ایسی تباہی شاذ و نادر ہی دیکھی ہوگی۔ شاید صرف پرل ہاربر کا حملہ اس کی مثال ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ بھی ایک ہی حملہ تھا۔
روایتی جنگ میں کسی دشمن نے کبھی امریکی فوجی طاقت کے ساتھ وہ نہیں کیا جو آج ایران کر رہا ہے۔ اس پر یقین کرنا مشکل ہے۔
صورتحال اتنی سنگین ہے کہ اس جنگ سے متعلق تقریباً تمام معلومات سنسرشپ کی دیوار کے پیچھے چھپا دی گئی ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمیں کم سے کم خبریں مل رہی ہیں۔
پینتیس سال پہلے جب پہلی خلیجی جنگ لڑی جا رہی تھی تو دنیا کو عراق سے مسلسل ویڈیوز دکھائی جاتی تھیں۔ “اسمارٹ بم” اُس وقت نئی ٹیکنالوجی تھے، مگر ہر رات ہمیں حملوں کی تصویریں دکھائی دیتی تھیں۔
اور آج؟
آج تو بمشکل کوئی ویڈیو سامنے آتی ہے۔
سوچئے!
دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت۔۔۔۔۔۔جس کی فضائی قوت کو سب سے برتر کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔اور جنگ کے چوتھے دن بھی ایران کے آسمان پر امریکی برتری کا کوئی واضح نشان نہیں۔
کہاں ہیں وہ ویڈیوز جن میں امریکی طیارے تہران کے اوپر پرواز کر رہے ہوں؟
حقیقت یہ ہے کہ امریکی فوجی ایران کی سرزمین پر قدم رکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
اور اس جنگ کی مایوسی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ چوتھے ہی دن ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عجیب و غریب اور دیوانہ وار تجاویز آنے لگیں۔
وہ خلیج فارس میں گزرنے والے تیل کے جہازوں کو فوجی تحفظ دینے کی بات کر رہے ہیں۔
آخر اس کا مطلب کیا ہے؟
کیا آپ امریکی بحری جہازوں کو ہزاروں ایرانی میزائلوں کی زد میں بھیجنا چاہتے ہیں؟
اب تو آبنائے ہرمز سے گزرنا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا۔
ایران اس لمحے کی تیاری دہائیوں سے کر رہا تھا۔
اب کچھ لوگ کرد ملیشیاؤں کو ہتھیار دے کر ایران پر حملہ کروانے کی بات کر رہے ہیں۔
مگر کیا انہوں نے کبھی ایران کا نقشہ دیکھا ہے؟
کیا انہیں معلوم ہے کہ ایران کتنا وسیع ملک ہے؟
کیا دس ہزار افراد کی کوئی ملیشیا ایران کو شکست دے سکتی ہے؟
یا پچاس ہزار؟
یا ایک لاکھ؟
ایران انہیں نگل جائے گا۔
امریکہ اور اسرائیل دراصل یہ جنگ پہلے ہی ہار چکے ہیں۔
وہ اپنے بموں سے شہروں کو تباہ کر سکتے ہیں، لاکھوں بے گناہ شہریوں کو مار سکتے ہیں۔۔۔۔۔مگر وہ اس جنگ کو جیت نہیں سکتے۔
ایران کا فوجی نظام اور اس کے ہتھیار پورے ملک میں گہرائی تک زیرِ زمین پھیلے ہوئے ہیں۔
انہیں نشانہ بنانا نہ امریکہ کے لیے آسان ہے اور نہ اسرائیل کے لیے۔
وہ ایک ایسی دلدل میں قدم رکھ چکے ہیں جہاں سے نکلنا آسان نہیں۔
انہوں نے ایک ایسی آگ بھڑکا دی ہے جسے بجھانے کی طاقت اب ان کے پاس نہیں۔
اور جب یہ طوفان تھمے گا،
تو ممکن ہے امریکہ ہمیشہ کے لیے مغربی ایشیا سے رخصت ہو جائے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی کا باب بند ہو جائے گا۔
میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں
م ن ق و ل