logo

کیاآپ کافون دوسروں کےلیےزحمت تونہیں؟

خالد سیف اللہ موتیہاری

ہماری روزمرہ زندگی میں فون ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ صبح سے شام تک، بلکہ رات گئے تک یہ آلہ ہمارے ساتھ لگا رہتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ فون کرنا بھی ایک فن ہے، جس کے اپنے اصول و آداب ہیں۔ آج کل کا منظر یہ ہے کہ لوگ بغیر سوچے سمجھے کسی بھی وقت فون اٹھا لیتے ہیں اور پھر گھنٹوں یکطرفہ گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔
پچھلے دنوں ایک دوست کا فون آیا۔ دوپہر کا وقت تھا، میں کچھ ضروری کام میں مصروف تھا۔ فون اٹھایا تو معلوم ہوا کہ انہیں بس یونہی باتیں کرنی ہیں۔ گھر کے حالات، محلے کی خبریں، سیاست کے معاملات، موسم کی کیفیت - سب کچھ ایک ہی نشست میں بیان کرنے لگے۔ میں بیچ میں "جی ہاں، جی ہاں" کہتا رہا، لیکن ان کی روانی میں کوئی وقفہ نہیں آیا۔ آدھا گھنٹہ، پھر پینتالیس منٹ، پھر ایک گھنٹہ ہو گیا۔ میرا کام رکا ہوا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اب ان سے کیسے کہوں کہ بس کیجیے۔ آخر کار جب وہ خود ہی تھوڑا رکے تو میں نے بڑی مشکل سے کہا کہ میرے پاس ایک کام ہے، بعد میں بات کرتے ہیں۔
یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ ہر شخص کسی نہ کسی دن اس صورتحال سے دوچار ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ عجیب رواج پایا جاتا ہے کہ لوگ فون پر گھنٹوں بیٹھ جاتے ہیں اور یہ خیال ہی نہیں کرتے کہ سامنے والا شاید مصروف ہو، یا اسے کوئی ضروری کام ہو۔ وہ اپنی دھن میں بولتے چلے جاتے ہیں اور سننے والا ادب کی وجہ سے خاموش رہتا ہے، حالانکہ اندر سے اکتاہٹ محسوس کر رہا ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے فون کو تفریح کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ جب بھی فارغ ہوئے، کسی کو فون لگا دیا۔ یہ نہیں سوچا کہ جسے ہم فون کر رہے ہیں، وہ فارغ بھی ہے یا نہیں۔ صبح سویرے بھی فون آ جاتے ہیں، رات گئے بھی۔ دفتری اوقات میں بھی لوگ بے تکلف فون کر دیتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ سامنے والا دفتر میں بیٹھا اپنے کام میں مصروف ہوگا۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض لوگ دن میں کئی کئی بار فون کر دیتے ہیں۔ ایک بار فون کیا، بات ہو گئی۔ آدھے گھنٹے بعد پھر فون آ گیا۔ پوچھا تو کہنے لگے کہ یہ بات بتانی رہ گئی تھی۔ شام کو پھر فون، پھر رات کو۔ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے؟ کیا ان کے پاس اور کوئی کام نہیں؟
فون کرتے وقت سب سے پہلے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ کیا آپ فارغ ہیں؟ یہ ایک سادہ سا جملہ دونوں کے درمیان احترام کی فضا قائم کر دیتا ہے۔ اگر سامنے والا کہے کہ ابھی مصروف ہوں، تو فوراً معذرت کرتے ہوئے بعد میں بات کرنے کا وقت پوچھ لینا چاہیے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی کو یہ فکر نہیں ہوتی۔ فون لگایا اور بس شروع ہو گئے۔
ایک اور بات جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ فون پر گفتگو کتنی دیر تک ہونی چاہیے۔ عام طور پر پانچ سے دس منٹ کافی ہوتے ہیں۔ اگر کوئی انتہائی اہم معاملہ ہے تو پندرہ بیس منٹ تک بات ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ تو بالکل نہیں۔ اگر تفصیلی بات کرنی ہے تو ملاقات کا وقت طے کر لینا بہتر ہے۔ فون تو بس فوری اطلاع یا ضروری معاملے کے لیے ہے، گپ شپ لڑانے کے لیے نہیں۔
بات چیت کا سلیقہ بھی ضروری ہے۔ دوسرے کو بولنے کا موقع دینا چاہیے۔ گفتگو دو طرفہ عمل ہے، ایک طرفہ تقریر نہیں۔ لیکن ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ ایک شخص بولتا چلا جاتا ہے اور دوسرا صرف "ہاں جی، ہاں جی" کہتا رہتا ہے۔ بیچ میں اگر کچھ کہنا بھی چاہے تو بولنے والا رکتا ہی نہیں۔ یہ تو زیادتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کو فون پر پکڑ کر بیٹھ گیا ہو تو کیا کریں؟ ہمارے معاشرے میں ادب کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ آدمی اکتاتا رہے لیکن منہ سے نہ نکالے۔ یہ رویہ غلط ہے۔ آپ بڑے ادب سے کہہ سکتے ہیں کہ معاف کیجیے، میرے پاس ابھی ایک ضروری کام ہے، کیا ہم بعد میں بات کر سکتے ہیں؟ یا یہ کہہ دیں کہ بہت خوب، پھر تفصیل سے بات ہوگی، ابھی مجھے جانا ہے۔
جب آپ فون کریں تو اپنا تعارف بھی ضرور کرائیں۔ خاص طور پر اگر بار بار رابطہ نہ ہو۔ السلام علیکم کہنے کے بعد اپنا نام بتا دیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سامنے والا ان کی آواز سے پہچان جائے گا۔ لیکن ایسا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ کئی بار تو شروع میں سمجھ ہی نہیں آتی کہ کون بول رہا ہے، اور پوچھنا بھی عجیب لگتا ہے۔
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ فون کے اداب دراصل ہماری تہذیب اور شائستگی کا آئینہ ہیں۔ جو شخص دوسروں کے وقت کی قدر کرتا ہے، ان کی سہولت کا خیال رکھتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں مہذب کہلانے کا حقدار ہے۔
آج کے اس مصروف دور میں جہاں ہر شخص اپنی دوڑ میں لگا ہوا ہے، وقت سب سے قیمتی چیز بن چکا ہے۔ اگر ہم دوسروں کا وقت ضائع کریں گے تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ فون ایک سہولت ہے، بوجھ نہیں۔ اسے بوجھ بنانا یا بنا دینا دونوں غلط ہیں۔ مختصر، مؤثر اور بامقصد گفتگو کیجیے۔ اپنا اور دوسرے کا وقت بچائیے۔
فون کرنے سے پہلے سوچیے کہ یہ ضروری ہے یا نہیں۔ بات کرتے ہوئے دوسرے کی بھی سنیے۔ اور جب بات ختم کریں تو شکریہ ادا کرتے ہوئے عمدہ انداز میں فون رکھیے۔ یہ چھوٹی باتیں ہیں لیکن ان سے رشتوں میں مٹھاس آتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں آپ کے لیے احترام پیدا ہوتا ہے۔

31
375 views