logo

استاد بھی ایک سماجی خدمت گزار ہوتا ہے


تحریر: جاوید شیخ


کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں اگر سب سے اہم کردار کسی کا ہوتا ہے تو وہ استاد کا ہوتا ہے۔ استاد صرف نصاب پڑھانے والا نہیں بلکہ نسلوں کی سوچ سنوارنے والا رہنما بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ استاد بھی ایک سماجی خدمت گزار ہوتا ہے۔
ایک استاد اپنے علم، صبر اور تجربے کے ذریعے طالب علموں کو نہ صرف تعلیم دیتا ہے بلکہ اچھا انسان بننے کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ وہ سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط میں فرق سکھاتا ہے اور سماج کے لیے مفید شہری بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی خاموش خدمت اسے ایک سچا سماجی کارکن بناتی ہے۔
جب ایک استاد کسی بچے میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے خاندان کا مستقبل روشن کر دیتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے استاد جہالت، تعصب اور سماجی برائیوں کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔ اس کی محنت کا اثر لمحوں میں نہیں بلکہ برسوں اور نسلوں تک نظر آتا ہے۔
آج کے بدلتے دور میں استاد کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ڈیجیٹل تعلیم، اخلاقی زوال اور معاشرتی دباؤ کے درمیان استاد ہی وہ مضبوط ستون ہے جو توازن قائم رکھ سکتا ہے۔ اگر معاشرہ واقعی ترقی چاہتا ہے تو اسے استاد کو صرف ایک ملازم نہیں بلکہ ایک سماجی خدمت گزار کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔
استاد کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ وہ بغیر کسی شہرت اور شور کے، خاموشی سے قوم کا مستقبل تراشتا ہے۔
اسی لیے استاد کا احترام دراصل معاشرے کا احترام ہے۔

19
319 views