logo

موتیہاری میں تعلیم کے نام پر جو ہو رہا ہے، وہ چونکا دینے والا ہے



خالد سیف اللہ موتیہاری

موتیہاری کے پچیس سے زائد اسکولوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ اس دوران اساتذہ سے ملاقاتیں ہوئیں، کلاس رومز دیکھے، امتحانی نظام کو قریب سے پرکھا۔ جو کچھ نظر آیا، وہ صرف تشویش ناک نہیں بلکہ فکری طور پر خوفناک ہے۔ یہ کوئی جذباتی بیان نہیں، ایک ذمہ دار مشاہدہ ہے۔
آج ہمارے اسکولوں میں اخلاقی تربیت کمزور پڑ چکی ہے اور تعلیمی معیار اس سے بھی نچلی سطح پر آ گیا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ پریشان کن بات وہ طریقے ہیں جو امتحانات کے دوران اختیار کیے جا رہے ہیں۔ متعدد اساتذہ نے خود یہ بات تسلیم کی کہ امتحان سے پہلے بچوں کو سوالات بتا دیے جاتے ہیں، بعض اوقات اصل پیپر سے بھی زیادہ۔ مقصد یہ نہیں کہ بچہ سیکھے، مقصد صرف یہ ہے کہ نتیجہ خراب نہ ہو۔
یہ رویہ محض غفلت نہیں، ایک منظم طریقہ بن چکا ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ محنت کے بغیر بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچے پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ نظام خود ان کے حق میں جھک جائے گا۔
صورتِ حال یہیں تک محدود نہیں۔ کم نمبر آنے پر بعض جگہوں پر اساتذہ اپنی طرف سے نمبر بڑھا دیتے ہیں تاکہ والدین ناراض نہ ہوں، اسکول کی شہرت متاثر نہ ہو، اور اگلے سال داخلے کم نہ ہوں۔ یوں تعلیم ایک امانت کے بجائے کاروبار بنتی جا رہی ہے۔ یہاں علم نہیں بکتا، صرف سند فروخت ہوتی ہے۔
یہ بات کسی ادارے یا فرد پر الزام کے طور پر نہیں لکھی جا رہی، بلکہ ایک مجموعی رجحان کی نشاندہی ہے۔ کئی ماہ کے مشاہدے کے بعد یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ موتیہاری میں تعلیم کا معیار تشویشناک حد تک گر چکا ہے۔ جو نظام بچوں کو سوچنا سکھانے کے لیے ہونا چاہیے تھا، وہ انہیں دھوکا دینا سکھا رہا ہے۔
تعلیم کے زوال کا ایک اور رخ بھی ہے، جو شاید اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ آج بہت سے اسکولوں میں تعلیم کے مقابلے میں نمائش کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ تقریبات، اسٹیج پروگرام، ناچ گانے اور فیشن شوز اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ پڑھائی پس منظر میں چلی گئی ہے۔ کتابیں الماریوں میں بند ہیں اور بچے اسٹیج کی تیاری میں مصروف۔
والدین اس صورتحال پر خوش دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ ان کا بچہ اسٹیج پر نظر آتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی تعلیم کا مقصد ہے؟ کیا اسکول بچوں کو علم دینے کے لیے ہیں یا صرف تالیوں کا انتظام کرنے کے لیے؟
یہاں خاص طور پر والدین، بالخصوص مسلمان والدین، کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ کچھ جگہوں پر یہ دیکھا گیا کہ بچیاں اسٹیج پر ایسے پروگراموں میں حصہ لے رہی ہیں جو ہماری سماجی اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ نہیں۔ یہ بات کسی پر انگلی اٹھانے کے لیے نہیں، بلکہ خود احتسابی کے لیے کہی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی اقدار کو محض وقتی خوشی کے لیے نظر انداز کر رہے ہیں؟
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تعلیم صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں، والدین کی بھی ہے۔ بچوں کو کہاں پڑھایا جا رہا ہے، کیا پڑھایا جا رہا ہے، اور کس ماحول میں پرورش ہو رہی ہے یہ سب سوالات والدین کو خود سے پوچھنے ہوں گے۔ صرف فیس بھر دینا اور نتیجہ دیکھ لینا کافی نہیں۔
آج ہمیں خود سے یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں اپنے بچوں کو علم دینا ہے یا صرف ایک کاغذی ڈگری۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم انہیں زندگی کے لیے تیار کر رہے ہیں یا محض امتحان پاس کرانے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سوالات مشکل ضرور ہیں، مگر ان سے فرار ممکن نہیں۔
یہ تحریر تلخ ہے، کیونکہ حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے۔ مگر یہ تلخی اس امید کے ساتھ لکھی گئی ہے کہ شاید ہم وقت پر رک کر سوچ لیں۔ اگر آج ہم نے تعلیمی نظام کی اس خاموش خرابی کو نہ سمجھا تو کل اس کی قیمت ہماری آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔
فیصلہ آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔ کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔

17
441 views