logo

لفظ کی طاقت

خالد سیف اللہ موتیہاری

لفظ کوئی بے جان آواز نہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو زبان سے نکلتے ہی وقت میں داخل ہو جاتی ہے۔ کبھی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے، کبھی کسی انسان کی تقدیر کا فیصلہ۔ ہم عموماً اسے معمولی سمجھ کر برتتے ہیں، حالاں کہ یہی لفظ کسی کے زخم پر مرہم بھی رکھ سکتا ہے اور کسی کے سینے میں خنجر بھی اتار سکتا ہے۔
انسانی زندگی میں لفظ کا سفر بہت خاموش مگر بہت گہرا ہوتا ہے۔ ایک ماں کا دعا بھرا جملہ اولاد کے قدم مضبوط کر دیتا ہے، اور ایک باپ کی تلخ بات برسوں تک دل میں کانٹے کی طرح چبھتی رہتی ہے۔ عدالت کے کمرے میں بولا گیا ایک جملہ کسی کو سلاخوں کے پیچھے بھیج دیتا ہے اور کسی کو آزادی کی ہوا بھی دکھا دیتا ہے۔ اسپتال کے کوریڈور میں ڈاکٹر کے ہونٹوں سے نکلا ایک لفظ امید بن جاتا ہے، اور کبھی وہی لفظ خاندان پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑتا ہے۔
لفظ کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ وہ نظر نہیں آتا مگر اثر چھوڑ جاتا ہے۔ جسم پر لگنے والے زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، مگر زبان سے نکلنے والی باتیں اکثر ساری عمر دل میں زندہ رہتی ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف انسانی شعور کو متوجہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسا اصول دے دیا جو زبان کے پورے اخلاقی نظام کی بنیاد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ یا تو بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔
اہلِ فکر اسی لیے ہمیشہ زبان کے استعمال میں احتیاط کی تلقین کرتے آئے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ تلوار کا وار ایک حد تک نقصان پہنچاتا ہے، مگر لفظ کا وار دلوں میں اتر کر نسلوں تک سرایت کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے انسان اپنی بات کے وزن کو اس کے اثر سے ناپتے ہیں، آواز کی بلندی سے نہیں۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ انقلابات تلوار سے نہیں، لفظ سے اٹھے۔ کسی نے سوال اٹھایا، کسی نے انکار کیا، کسی نے حق کہا، اور دنیا کا نقشہ بدل گیا۔ اسی طرح زوال بھی لفظ سے شروع ہوتا ہے۔ جھوٹ، نفرت اور تعصب کے چند جملے پورے معاشروں کو آگ میں جھونک دیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آمریت سب سے پہلے لفظ سے خوف کھاتی ہے، اور آزادی سب سے پہلے لفظ ہی سے جنم لیتی ہے۔
روزمرہ زندگی میں ہم اس حقیقت کو بار بار نظرانداز کر دیتے ہیں۔ غصے میں بول دیتے ہیں، مجمع میں بول دیتے ہیں، سوشل میڈیا پر بغیر سوچے لکھ دیتے ہیں۔ ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ سامنے والا صرف ایک اسکرین یا ایک چہرہ نہیں بلکہ ایک مکمل زندگی ہے، احساسات کے ساتھ، کمزوریوں کے ساتھ۔ ایک جملہ اس کے اندر ٹوٹ پھوٹ بھی پیدا کر سکتا ہے اور جینے کی نئی وجہ بھی دے سکتا ہے۔
اصل دانائی یہی ہے کہ آدمی لفظ بولنے سے پہلے اس کے انجام پر غور کرے۔ یہ دیکھے کہ اس کی بات کسی دل کو جوڑ رہی ہے یا توڑ رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خاموشی بھی عبادت بن جاتی ہے، اور بھلی بات صدقہ۔ انسان آخرکار اپنے الفاظ ہی کے ساتھ یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کی آواز خاموش ہو جاتی ہے، اس کا وجود مٹی میں مل جاتا ہے، مگر اس کے بولے ہوئے لفظ وقت کی دیواروں پر لکھے رہتے ہیں۔
شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے لفظ ہوتے ہیں۔ اگر وہ سنبھل کر بولے تو زندگی بچا لیتا ہے، اور اگر بے سوچا بولے تو زندگیاں اجاڑ دیتا ہے۔ انتخاب ہمیشہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

13
96 views