logo

کل کی تلاش

خالد سیف اللہ موتیہاری

ایک بزرگ اپنی آخری سانسوں میں تھے۔ بیٹے نے پوچھا: "ابا، زندگی کا سب سے بڑا سبق کیا سیکھا؟" بزرگ نے آنکھیں کھولیں اور کہا: "میں نے ساری عمر کل کی فکر میں گزار دی، اور جب آج آیا تو معلوم ہوا کہ یہ وہی کل تھا جسے میں نے کل پر ٹال دیا تھا۔"
کل ایک ایسا لفظ ہے جو ہمیشہ سامنے رہتا ہے، مگر ہاتھ نہیں آتا۔ انسان آج میں کھڑا ہو کر اسے آواز دیتا ہے، منصوبے بناتا ہے، امیدیں باندھتا ہے، اور پھر شام ہوتے ہوتے خود کو تھکا ہوا پاتا ہے۔ کل کی تلاش دراصل وقت کی نہیں، انسان کے اندر پھیلی ہوئی ایک بے چینی کی تلاش ہے جو اسے ٹھہرنے نہیں دیتی۔
انسان کو کل کی فکر اس دن سے لاحق ہوئی جس دن اس نے آج پر اعتماد کھو دیا۔ جب حال بوجھ بن جائے تو نگاہ خود بخود آگے کی طرف اٹھتی ہے۔ ہم کل کو بہتر، محفوظ اور روشن سمجھ کر اس کی طرف دیکھتے ہیں، مگر یہ کم ہی سوچتے ہیں کہ اگر آج کی بنیاد کمزور ہو تو کل کس چیز پر کھڑا ہوگا۔
ہماری زندگی میں کل اکثر وعدہ بن کر آتا ہے۔ سچ کل بولیں گے، وقت کل دیں گے، اصلاح کل کریں گے، اور سکون کل پائیں گے۔ اس طرح کل امید نہیں رہتا، ایک تاخیر بن جاتا ہے۔ انسان اپنے بہت سے فیصلے کل کے کھاتے میں ڈال کر آج سے بچ نکلتا ہے، اور یوں زندگی آہستہ آہستہ مؤخر ہوتی چلی جاتی ہے۔
فکر اور دین کی روایت میں کل کو کبھی بے لگام نہیں چھوڑا گیا۔ کل کی تیاری ہمیشہ آج کی درستگی سے مشروط رہی ہے۔ جو آج کو سنبھال نہیں سکتا، وہ کل کو محض خواب میں دیکھ سکتا ہے۔ خواب وقتی تسلی دے دیتے ہیں، مگر زندگی کی سمت طے نہیں کرتے۔
آج کا انسان کل کو منصوبوں میں قید کر چکا ہے۔ فہرستیں ہیں، اہداف ہیں، نقشے ہیں، مگر انسان خود کہیں کھو گیا ہے۔ وہ حساب لگا سکتا ہے، مگر احتساب سے گھبراتا ہے۔ حالانکہ احتساب کے بغیر کوئی تلاش مکمل نہیں ہوتی، چاہے وہ کل ہی کیوں نہ ہو۔
کل کی تلاش میں سب سے بڑا دھوکا یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کل ہمیں بدل دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کل وہی ہوتا ہے جو ہم آج چھوڑ جاتے ہیں۔ جو شخص آج کو سنوارنے سے بھاگتا ہے، وہ کل کو الزام دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یوں تلاش کا سفر شکوے پر آ کر رک جاتا ہے۔
کل ایک ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری اپنے فیصلوں، اپنے تعلقات، اور اپنے رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔ جب انسان اس ذمہ داری کو سمجھ لیتا ہے تو اسے کل کے لیے غیر معمولی چیزوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ معمول کی درستگی ہی اس کا سرمایہ بن جاتی ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ کل کیسا ہوگا، سوال یہ ہے کہ آج ہم کیا بن رہے ہیں۔ کیونکہ کل اسی شکل میں سامنے آتا ہے جو آج خاموشی سے تیار ہو رہی ہوتی ہے۔ اگر آج غفلت میں گزر جائے تو کل صرف ایک نام رہ جاتا ہے، اور اگر آج بیداری میں بسر ہو تو کل خود جواب بن جاتا ہے۔

36
1050 views