logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

روس کی ایران کی مدد کے لیے انوکی چال کیا ہوا

‏روس کی ایران کی مدد کے لئے انوکھی چال؟

اس وقت کی پوزیشن یہ ہے کہ امریکہ نے ایرانی تیل سے پابندی ہٹا دی ہے، چین اپنا چالیس فیصد تیل ایران سے خرید رہا ہے۔ ایرانی تیل کی ایکسپورٹ بڑھ گئی ہے۔ چین بقایا اٹھائیس فیصد خود پیدا کرتا ہے اور تیس فیصد روس وغیرہ سے لیتا ہے۔ روس آج کے دن یعنی یکم اپریل سے تیل کی ایکسپورٹ مکمل طور پہ بند کررہا ہے اکتیس جولائی تک۔ یعنی چین اپنا ستر فیصد کے قریب تیل ایران سے خریدے گا روس سعودیہ کے بعد سب سے بڑا تیل کا ایکسپورٹر تھا جب وہ نہیں بیچے گا تو مارکیٹ کئ وہ ساری کمی ایرانی تیل سے پوری کرنا پڑ جائے گی۔ روس ان چار مہینون میں اپنا سارا تیل سٹاک کرے گا، کیوں؟ ایک وجہ تو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جنگ طُول کھینچے دنیا تیل کی قلت کا شکار ہونے لگے اور تیل سٹریٹیجک ریزرو میں شمار ہونا شروع ہوجائے جو بہت خوفناک منظر نامہ ہوگا لیکن بادی النظر میں یہ لگتا ہے کہ روس جان بوجھ کر دنیا کو ایرانی تیل پہ منحصر کرنا چاہتا ہے ایک وجہ تو یہ کہ ایران کے پاس جنگ کی فنڈنگ کے لیے زیادہ پیسہ آجائے اور دوسرا اگر امریکہ فرسٹریٹ ہوکر ایران پہ دوبارہ تیل کی ایکسپورٹ کی پابندیاں لگانا چاہے تو ساری دنیا امریکہ کی مخالفت کرے۔

اس کے علاوہ ایک مقصد اور بھی ہے اور وہ یہ کہ امریکہ جزیرہ خارک پہ حملہ سمیت ایران کے کسی بھی تیل کے انفراسٹرکچر پہ حملہ سے باز رہے کیونکہ اس صورت میں ایران جواب میں خلیج کے باقی تیل کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردے گا اور روس کی طرف سے تیل کی ایکسپورٹ پہ مکمل پابندی کی صورت میں پوری دنیا تیل کے ایک خوفناک بحران کا شکار ہو جائے گی۔

0
0 views

Comment