logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

”مینڈھر جوڑو یاترا“ اور ایڈوکیٹ ذیشان رانا کی قیادت کتنی مئوثر؟


اس میں کوئی دو رائے کی بات نہیں ہے کہ جب سیاست کے میدان میں ناقابلِ شکست وجود رکھنے والے سیاسی لیڈر کا صاحبزادہ کسی کام کی شروعات کرتا ہے تو اسے قدم قدم پر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہوتا ہے کہ اسے اپنی تجویز کردہ مہم کو سَر کرتے کرتے نتیجہ ناکامی کی صورت میں ہاتھ لگے۔ لیکن مرکز کے زیرِ انتظام چل رہے جموں و کشمیر کے وزیرِ کابینہ جاوید احمد رانا جن کا تعلق برسرِ اقتدار جماعت،نیشنل کانفرنس سے ہے،کے صاحبزادے ایڈوکیٹ ذیشان احمد رانا جنہیں سیاست کا شعور رکھنے والے یا یوں کہیں کہ 'سیاسی مبصرین' طفلِ سیاست کا باشعور شاہزادہ اور مستقبل کا تازہ مغز اور صحت مند لیڈر قرار دیتے یا کہتے ہیں نے گزیشتہ کچھ مہینوں سے ایک منفرد قسم کی تحریک چھیڑ رکھی ہے جسے موصوف نے ”مینڈھر جوڑو یاترا“ کا نام تحویض کیا ہوا ہے۔ سیاست کے جانکاروں کا کہنا ہے کہ صاحبزادہ ایڈوکیٹ ذیشان رانا نے اپنی قیادت میں پنانپ رہی مہم کو عنوان دے کر اسے غیر سیاسی مہم ظاہر کرنے کی کوشش میں روز و شب مصروفِ عمل ہیں ، وہ در اصل ایک نعرہ ہے۔ سیاسی مبصرین کے بقول موصوف یعنی ذیشان رانا نے اپنی مہم کو جو عنوان فراہم کیا ہے وہ اپنی جگہ بالکل بجا معلوم ہوتا ہے۔ وہ یعنی سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار مذکورہ عنوان ”مینڈھر جوڑو یاترا“ کو اس لیے بھی موزوں قرار دیتے ہیں کہ وہ یعنی ذیشان رانا اس مہم کی آخری چوٹی کو سَر کرنے کی خاطر پہاڑوں،درّوں جھاڑیوں اور کانٹوں کی رکاوٹوں کی پروا کیے بغیر حصولیابی کی غرض سے آگے قدم بڑھاتے ہیں جا رہے ہیں۔ وہ سرحدی تحصیل مینڈھر کی تمام تر پنچایتوں میں جا کر اسٹیج سجا رہے ہیں اور پُر اعتماد تقریر بھی ڈیلور کرنے میں کسی حد تک کامیاب نظر آ رہے ہیں۔ یعنی جن مقاصد کو وہ حاصل کرنا خاہتے ہیں ان میں سے کچھ کچھ کے بے حد قریب ہیں۔ مینڈھر کی عوام موصوف کے 'نیریٹیو' سے اگر کُلی طور متفق نہیں ہے تو جزوی طور اسے اچھا ماننے میں بھی کسی قسم کی کوئی ہچہچاہٹ محسوس نہیں کر رہی ہے۔ بقول پولیٹکل ماسٹرز ابھی تک ذیشان رانا سرحدی تحصیل مینڈھر کی عوام کو اتنا تاثر دینے میں پوری طرح سے کامیاب دکھائی دے رہے کہ مستقبل میں مینڈھر کی عوام کی سیاسی باگ ڈور ذیشان رانا سنبھالنے کی اہلیت درجہء اتم رکھتے ہیں۔

3
5713 views

Comment