رات سے اب تک یعنی پچھلے 12 گھنٹے میں کیا کچھ ہوتا رہا اس کی اپ ڈیٹ کے ساتھ حاضر ہوں
رات سے اب تک یعنی پچھلے 12 گھنٹے میں کیا کچھ ہوتا رہا اس کی اپ ڈیٹ کے ساتھ حاضر ہوں
ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں لیکن رات اسرائیل نے تہران کے بجلی پاور پلانٹس پر تباہ کن حملہ کیا جس سے تہران اندھیرے میں ڈوب گیا اس کے بعد ایران نے کہا کہ اب اسرائیل اور اس کے سہولت کار عرب ممالک میں بھی اندھیروں کا راج ہوگا ہم ان کے پاور پلانٹ بھی اڑا دیں گے اور ان کی کمپنیاں بھی تباہ کریں گے اس کے بعد ایران نے کلسٹر بم میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ تل ابیب اور دیگر کئی اسرائیلی شہروں پر بہت ہی تباہ کن حملے کیے ہیں جس میں سینکڑوں عمارتیں گرنے ہزاروں لوگوں کے زخمی اور مرنے کی اطلاعات ہیں اسرائیل میں سینسر شپ ہے وہاں سے جانی نقصان کی خبر انتہائی مشکل سے نکلتی ہے ایران کا حملہ اتنا شدید اور بڑا تھا کہ اسرائیل کا پورا آسمان روشنیوں سے بھر گیا ایران کا کہنا ہے کہ ہم نے ان کے تمام دفائی نظام کو تباہ کر دیا ہے اور ان کے انٹرسپٹ مزائل بھی تقریبا ختم ہو چکے ہیں اب یہ نہ ہمارے ڈرونز کو روک سکتے ہیں نہ ہی مزائلوں کو ، اب ہم جہاں چاہے جب جی چاہیں جس چیز کو چاہے اڑا سکتے ہیں اور ایسا کر بھی رہے ہیں اس کے علاوہ ایران نے دریائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے ان کو ٹیکس دینے والے یا ان کی مرضی کے کچھ جہاز اس وقت آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں اس کے علاوہ ایران نے دوسرا بڑا حملہ اسرائیل کے ایٹمی پاور پلانٹ پر کیا ہے اس کو بھی شدید نقصان پہنچے کی اطلاعات ہیں ڈیمونا شہر جہاں اسرائیل کا سب سے بڑا ایٹمی پاور پلانٹ ہے اس کے ارد گرد بھی آبادیوں پر ایران کے بہت سے میزائل گرے ہیں زخمیوں سے یہودی ہسپتال اس وقت بھرے پڑے ہیں اسرائیل مرنے والوں کی تعداد بتانے سے گریز کر رہا ہے اور نہ ہی بتاتا ہے اگر 50 یہودی مارتے ہیں تو وہ ایک کے مرنے کی ذمہ داری لیتا ہے اس کے علاوہ ایران نے ٹرمپ کی دھمکیاں اور ڈیڈ لائن کے جواب میں کہا ہے کہ ہمیں تمہاری کسی ڈیڈ لائن کی کوئی پرواہ نہیں جو کچھ تم ہمارے ساتھ کرو گے اسے بڑھ کر ہم آپ کے اور آپ کے اتحادیوں اور اسرائیل کے ساتھ کریں گے موجودہ حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ جنگ اب انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہونے والی ہے اب ایران اسرائیل اور عرب ممالک کہ پاور پلانٹس اور ان کی معیشت پر بھی بہت بڑے حملے کرنے جا رہا ہے ، ایران نے اسرائیل یا امریکہ کی شرائط پر جنگ بند کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی کی بات ہوگی تو ہماری شرائط پر ورنہ ہم اس جنگ کو لمبے عرصے تک لے جانےکی پلاننگ کر چکے ہیں ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے پوری ثابت قدمی سے اپنے دفاع اور بقا کی جنگ لڑیں گے