logo

مالیگاؤں ماڈل" کیا یہ ملک کے لیے نئی سیاسی امید ہے؟


مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے انتخابی نتائج نے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مقامی سطح پر ابھرنے والی ’اسلام‘ پارٹی کی کامیابی کو اب ’مالیگاؤں ماڈل‘ کے نام سے دیکھا جا رہا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ ماڈل ملک کے مسلمانوں کے لیے ایک نئی سیاسی سمت اور امید بن سکتا ہے۔
مالیگاؤں میں ہوئے انتخابات میں ’اسلام‘ پارٹی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی، جبکہ کانگریس، بی جے پی اور یہاں تک کہ اے آئی ایم آئی ایم جیسی بڑی جماعتیں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عوام اب صرف قومی جماعتوں کے نام پر ووٹ دینے کے بجائے مقامی قیادت اور زمینی مسائل کو ترجیح دے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ’مالیگاؤں ماڈل‘ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مذہب کے بجائے مقامی مسائل کو مرکز بنایا گیا۔ بجلی، پانی، پاورلوم صنعت، بے روزگاری اور شہری سہولتیں انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے اس قیادت پر اعتماد کیا جو ان کے روزمرہ مسائل سے براہ راست جڑی ہوئی دکھائی دی۔
اس انتخابی تبدیلی کو مسلم سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ طویل عرصے سے جسے مسلم ووٹ بینک کہا جاتا رہا ہے، وہ اب نئے متبادل تلاش کرتا نظر آ رہا ہے۔ ووٹرز محض ”کم نقصان“ کی سیاست کے بجائے موثر نمائندگی اور عملی حل چاہتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ’مالیگاؤں ماڈل‘ کو پورے ملک پر من و عن لاگو کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مالیگاؤں کی سماجی، معاشی اور سیاسی صورتحال منفرد ہے۔ قومی سطح پر اثر ڈالنے کے لیے مضبوط تنظیم، واضح پالیسی اور وسیع قبولیت درکار ہوگی۔
فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مالیگاؤں کے انتخابی نتائج نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ عوام اب زیادہ باخبر ہیں اور اپنی سیاست خود طے کرنا چاہتے ہیں۔ آیا یہ ماڈل ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہرایا جائے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا، مگر مالیگاؤں نے قومی سیاست کو سوچنے کا ایک نیا زاویہ ضرور دیا ہے۔

22
1722 views