logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

दैनिक गावंकारी के सिनियर पत्रकार अफझल पठाण सर की एक और तहरीर "हा हम कोक्रोच हैं "उर्दू अनुवाद (तर्जूमा )

ہاں، ہم کاکروچ ہیں...!"
جن آنکھوں میں کبھی ملک بنانے کے خواب تھے، آج انہی آنکھوں میں ذلت کے آنسو ہیں…! جن ہاتھوں میں مستقبل سنوارنے کی طاقت تھی، آج وہی ہاتھ بے روزگاری سے کانپ رہے ہیں…!
بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کے مبینہ “کاکروچ” بیان نے پورے ملک کے نوجوانوں کے دلوں میں دبی ہوئی ناراضگی کو آتش فشاں کی طرح پھاڑ دیا۔ سوشل میڈیا پر “کاکروچ جنتا پارٹی” صرف ایک ٹرینڈ بن کر سامنے نہیں آئی، بلکہ یہ لاکھوں بے روزگار، پریشان اور نظرانداز کیے گئے نوجوانوں کے درد کی آواز بن گئی۔
ابھجیت دیپکے نامی نوجوان کی جانب سے شروع کی گئی “کاکروچ جنتا پارٹی” مہم چند ہی گھنٹوں میں پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گئی۔ کیونکہ یہ صرف مذاق نہیں تھا، یہ اُن نوجوانوں کی چیخ تھی جنہوں نے پوری زندگی تعلیم حاصل کی، جن کے والدین نے قرض لے کر بچوں کو پڑھایا، لیکن ہاتھ میں نہ نوکری آئی، نہ مستقبل، اور اوپر سے ذلت آمیز باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔
کیا آج کا نوجوان واقعی اتنا نظرانداز ہو چکا ہے؟ کیا اب اُسے اپنی مثال “کاکروچ” سے دینے میں بھی درد محسوس نہیں ہوتا؟ کیا اُس کی عزتِ نفس کی قیمت اب صرف سوشل میڈیا کے میمز تک محدود رہ گئی ہے؟
یہ سوال صرف ایک بیان کا نہیں، بلکہ اُن لاکھوں نوجوانوں کے آنسوؤں کا سوال ہے جو رات رات بھر پڑھائی کرتے ہیں، مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے اپنی پوری زندگی لگا دیتے ہیں، لیکن آخر میں اُن کے حصے میں آتا ہے صرف “ویٹنگ لسٹ” اور “کوئی آسامی خالی نہیں” کا بورڈ!
ملک کا نوجوان آج اتنا ٹوٹ چکا ہے کہ اب وہ غصہ بھی ظاہر نہیں کرتا، وہ صرف طنز کرتا ہے، میمز بناتا ہے اور اپنے ہی درد پر ہنستا ہے، کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ اب اُس کی تکلیف کو سنجیدگی سے سننے والا کوئی نہیں!
“کاکروچ جنتا پارٹی” بھلے ہی کوئی سرکاری سیاسی تنظیم نہ ہو، لیکن یہ نظام کے خلاف نوجوانوں کے دلوں میں اٹھنے والی بغاوت کی ایک چنگاری ضرور ہے۔ یہ ٹرینڈ بتا رہا ہے کہ اگر نوجوانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا جائے گا، تو سوشل میڈیا تحریک بن جائے گا، اور تحریک تاریخ لکھنا شروع کر دے گی۔
آج ہر نوجوان کے دل میں صرف ایک سوال جل رہا ہے: “اگر پڑھ لکھ کر بھی ذلت ہی ملنی ہے، تو ہمارے خوابوں کی قیمت آخر کیا ہے؟”
نوجوانوں کو “کاکروچ” کہنا شاید کچھ لوگوں کے لیے صرف ایک لفظ ہو، لیکن جن بچوں نے ماں کے زیور بیچ کر تعلیم حاصل کی، جنہوں نے باپ کے پسینے پر اپنا مستقبل کھڑا کرنے کی کوشش کی، اُن کے لیے یہ لفظ اُن کی عزتِ نفس پر لگا ایک گہرا زخم بن گیا ہے۔
آج حالات اتنے خوفناک ہو چکے ہیں کہ ڈگری ہاتھ میں ہونے کے باوجود نوجوان نوکری کے لیے در در بھٹک رہا ہے، اور دوسری طرف اپنے خوابوں کا مذاق اُڑتے دیکھ کر اُس کے دل کی امید آہستہ آہستہ مر رہی ہے۔ یہ صرف غصہ نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کے ٹوٹے ہوئے اعتماد کی چیخ ہے!
آج سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوان “ہاں، ہم کاکروچ ہیں!” کہہ رہے ہیں، لیکن اُس ہنسی کے پیچھے ایک گہرا درد چھپا ہے۔ کیونکہ جب کسی ملک کا نوجوان خود کو “کاکروچ” کہنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ صرف ناراض نہیں ہوتا، بلکہ اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے…!
افضل پٹھان، ناسک، مہاراشٹر
۹۸۲۲۶۶۱۱۳۴

24
1215 views

Comment